انڈین سپریم کورٹ میں مساجد میں خواتین کو اگلی صف میں نماز کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پر بحث کیوں جاری ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سید معزز امام
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
انڈیا کی سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 سے متعلق سات سوالات پر مبنی اہم مذہبی امور پر سماعت کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
انڈین آئین کا آرٹیکل 25 مذہبی آزادی سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 26 مذہب کے اندرونی انتظام سے متعلق ہے۔
عدالت اِن سات سوالات کے ذریعے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مذہبی معاملات میں اسے (سپریم کورٹ کو) کس حد تک مداخلت کا حق حاصل ہے۔
اس معاملے کی ابتدا ریاست کیرالہ میں واقع سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے کی ممانعت پر شروع ہوئی اور بعدازاں اس کیس میں مساجد میں مسلم خواتین کے داخلے کو بھی شامل کر لیا گيا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں نو رکنی آئینی بنچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔
مساجد میں خواتین کے داخلے سے متعلق پونے کی رہائشی خاتون یاسمین زبیر پیرزادہ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں خواتین کو اگلی صف میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے علاوہ کئی اور مطالبات بھی شامل ہیں۔
اس میں خواتین نمازیوں کو امام مسجد کو براہ راست دیکھنے اور ایک ہی دروازے سے مرد و خواتین کے مسجد میں داخل ہونے کا ذکر بھی ہے۔
یاسمین پیرزادہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مرد اور خواتین کے ایک ساتھ (یعنی ایک ہی مسجد میں علیحدہ بندوبست کے بغیر) نماز ادا کرنے کی اجازت کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کو مساجد میں مردوں ہی کی طرح نماز پڑھنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
اس درخواست کو فی الحال سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے سے متعلق کیس کی سماعت کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
یاسمین زبیر پیرزادہ نے یہ درخواست سنہ 2019 میں دائر کی تھی۔ اس کیس میں اُن کی جانب سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی بی ایل) کو بطور فریق نامزد کیا گیا ہے۔
یاسمین زبیر پیرزادہ کی اس درخواست کے جواب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کروایا ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ مسلم خواتین کو مسجد میں داخلے کی اجازت ہے، لیکن وہ صرف مخصوص قوانین کے اندر رہتے ہوئے ہی باجماعت نماز ادا کر سکتی ہیں۔
اسلام میں خواتین کی مساجد میں نماز پڑھنے کی تاریخ

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسلامی قانون، جسے شریعت بھی کہا جاتا ہے، میں مساجد میں خواتین کے داخلے کے حوالے سے رہنما اصول موجود ہیں۔
معروف اسلامی سکالر امام احمد بن حنبل کی لکھی ہوئی کتاب ’مسند احمد‘ کی جلد 9 میں پیغمبر اسلام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ’جب خواتین مسجد میں جانا چاہیں تو انھیں مت روکیں، کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔‘
اسی طرح حدیث کی کتاب 'قرب الاسناد' میں عبداللہ بن جعفر حضرت علی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ خواتین پیغمبر اسلام کے دور میں بھی ساتھ نماز پڑھتی تھیں۔
20ویں صدی کے معروف انڈین سکالر مولانا وحید الدین خان نے اپنی کتاب ’اسلام میں خواتین‘ میں لکھا کہ ’اسلامی دور میں، مسلمان خواتین کو مسجدوں میں جانے اور باجماعت یا اکیلے نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔‘
محقق شبیر حسن کی تصنیف ’مسجد نبوی کا نمونہ اور ماحول‘ میں پیغمبر اسلام کے دور میں مسلم خواتین کے کردار پر بحث کی گئی ہے۔
اس تصنیف میں کہا گیا ہے کہ ’15ویں صدی کے دوران، اسلامی سکالر امام حافظ ابن حجر العسقلانی کی اہلیہ انس بنت القاضی یا انس خاتون مسجد میں باقاعدگی سے لیکچر دیتی تھیں۔‘
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’انس خاتون کے پاس مصر کی عمرو ابن العاص مسجد میں پبلک لیکچر دینے کے اتنے مواقع تھے کہ معروف علما، اُن کے وسیع علم اور حدیث کے ادب کی سمجھ سے استفادہ کے لیے ان کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے۔‘
مزید برآں، شیخ اکرم ندوی نے خواتین محدیثین پر اپنی تحقیق میں لکھا کہ ’حجاز (مغربی سعودی عرب کا ساحلی علاقہ)، شام، عراق اور مسلم دنیا کے دیگر حصوں کی تمام بڑی مساجد میں خواتین کی تعلیم یا تدریس کی سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔‘
شبیر حسن اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ ’اس زمانے میں خواتین کا علم حاصل کرنے میں سبقت حاصل کرنا عام تھا۔ ان میں سے اکثر کے لیے مسجد ہی علم کا بنیادی مرکز تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہSAIYED MOZIZ IMAM
آل انڈیا ویمن مسلم پرسنل لا کی رہنما اور سماجی کارکن شائستہ امبر کہتی ہیں ’اسلام میں عبادت میں مردوں اور عورتوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔‘
لکھنؤ کے ایک ممتاز مذہبی عالم مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ روایت پیغمبر اسلام کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ سعودی عرب میں، مکہ میں مسجد الحرام (کعبہ)، مسجد نبوی (مدینہ میں) اور یروشلم کی مسجد اقصیٰ میں آج بھی ایک ساتھ نماز ادا کی جاتی ہے۔ حج اور عمرہ کے دوران بھی مردوں کے ساتھ خواتین ہوتی ہیں۔‘
تاہم، مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا استدلال ہے کہ ’خواتین کو مسجد میں داخل ہونے کی ترغیب نہیں دی جاتی کیونکہ کچھ نمازیں، جیسے صبح اور شام کی نمازیں، اندھیرے کے اوقات میں ادا کی جاتی ہیں، اور اس کی وجہ سے سکیورٹی خدشات ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جہاں مساجد بڑی ہیں وہاں خواتین کے لیے الگ انتظامات ہوتے ہیں لیکن انڈیا میں چونکہ بیشتر مساجد چھوٹی ہیں، اس لیے الگ جگہ بنانا مشکل ہے۔‘
تاہم، ہر مسجد میں خواتین کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں مولانا خالد رشید فرنگی محلی کہتے ہیں: 'جگہ کی کمی کی وجہ سے ہر مسجد میں علیحدہ انتظام کرنا مشکل ہے۔‘
سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی نمائندگی کرنے والے وکیل فضیل احمد ایوبی کہتے ہیں کہ ’اس معاملے میں مسلمانوں کا رویہ آئین کے مطابق ہے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’آئین کا آرٹیکل 25 امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے، خواتین کے مسجد میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن انھیں آئین کے آرٹیکل 26 اور 26 (بی) کے تحت مسجد میں اپنی سہولت کے حساب سے انتظام کرنے کی آزادی بھی حاصل ہے۔‘
شیعہ اور سنی علما کی آرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونوں بڑے مسلم مسالک، شیعہ اور سنی، مسلمان خواتین کے مسجد میں داخلے اور اُن کی نماز کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسجد کے اندر پردے میں رہ کر الگ نماز پڑھ سکتی ہیں۔
ممبئی میں مقیم شیعہ عالم مولانا اشرف زیدی سنی علما سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اسلام میں عورتوں کے مسجد میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن خواتین کے لیے اُن کے گھر کو ہی مسجد سمجھا جاتا ہے جہاں وہ نماز ادا کر سکتی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ 'چونکہ خواتین پر گھریلو کام کاج کا بوجھ ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا لازمی نہیں ہے۔‘
مولانا خالد رشید فرنگی محلی کہتے ہیں ’اسلام میں مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ خواتین کو اپنے جسم کو ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے مساجد میں ان کے داخلے کے لیے بھی علیحدہ راستے بنائے گئے ہیں تاکہ کسی کو کسی قسم کی قباحت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘
بقول اُن کے ’یہ کوئی لازمی شرعی قانون نہیں، بلکہ ایک عملی انتظام ہے۔ تاکہ ہر شخص نماز کے لیے صحیح وقت پر مسجد میں داخل ہو سکے۔‘
دنیا کے مختلف حصوں میں کیا رواج ہے؟
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دو ارب مسلمان آباد ہیں۔ ان میں سے انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے۔
لکھنؤ کے محمد جاوید خان تقریباً تیس سال سے جاپان میں مقیم ہیں۔ وہ وہاں کی ایک پارلیمانی کمیٹی کے مشیر بھی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں تقریباً 200 مساجد ہیں، لیکن صرف چند ہی میں خواتین کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔‘
جاوید خان کا کہنا ہے کہ ’میں نے دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا ہے لیکن کہیں بھی خواتین کے مساجد میں داخلے پر مکمل پابندی نہیں ہے تاہم ہر مسجد میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی کیونکہ خواتین صرف ان مساجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں جن میں پردے کا انتظام ہو۔‘
مولانا اشرف زیدی کا کہنا ہے کہ ’اسلام میں پردہ لازمی ہے، اس لیے خواتین صرف مسجد کے الگ حصے میں ہی نماز ادا کر سکتی ہیں۔‘
لکھنؤ کی ایک سماجی کارکن طاہرہ حسن خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام میں خواتین کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔ اس لیے مساجد میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ درحقیقت مسلم معاشرے میں ایسی خواتین رہی ہیں جنھوں نے ایک مثال قائم کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSAIYED MOZIZ IMAM
دوسری جانب کچھ سماجی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ خواتین کو بغیر کسی پابندی کے مساجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی مکمل آزادی نہیں ہے۔
آل انڈیا ویمن مسلم پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر کا دعویٰ ہے کہ '1995 میں میں اپنے بچے کو عید کی نماز پڑھانے لکھنؤ کی ایک مسجد گئی، لیکن مسجد انتظامیہ نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔‘
’اس کے بعد، میں نے اپنے پیسوں سے لکھنؤ میں زمین خریدی اور ایک مسجد اور ایک دھرم شالہ تعمیر کرائی۔ مسلمانوں اور خواتین کے تمام فرقوں کو یہاں نماز پڑھنے کی آزادی ہے۔‘
شائستہ عنبر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس دعوے پر یقین نہیں کرتی ہیں کہ خواتین کو مسجد میں داخل ہونے کی مکمل آزادی ہے۔
شائستہ عنبر کہتی ہیں: ’مسلم پرسنل لا بورڈ کو یہ بتانا چاہیے کہ کتنی مساجد میں خواتین کے لیے علیحدہ جگہیں، وضو خانے اور بیت الخلا موجود ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مکہ میں خواتین مردوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے آزاد ہیں۔
تاہم مولانا اشرف زیدی کا کہنا ہے کہ ’خواتین خانہ کعبہ میں ایک الگ لائن میں نماز ادا کرتی ہیں۔‘
سپریم کورٹ کے سات سوالات کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سبریمالا مندر کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے لیے سات سوالات ترتیب دیے ہیں اور اب تمام درخواستوں کی سماعت انھی درج ذیل سوالات کے تحت ہو رہی ہے۔
- انڈین آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے حق کی گنجائش اور حدود کیا ہیں؟
- آرٹیکل 25 کے تحت افراد کے حقوق اور انڈین آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی فرقوں کے حقوق کے درمیان کیا تعلق ہے؟
- کیا آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی فرقے کے حقوق امن عامہ، اخلاقیات اور صحت کے علاوہ آئین کے حصہ سوئم کی دیگر دفعات کے تابع ہیں؟
- آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت ’اخلاقیات‘ کی اصطلاح کی گنجائش اور حدود کیا ہیں اور کیا اس میں آئینی اخلاقیات شامل ہیں؟
- آرٹیکل 25 میں مذکور کسی بھی مذہبی عمل کے حوالے سے عدالتی نظرثانی کی گنجائش اور حدود کیا ہیں؟
- آرٹیکل 25 (2) (بی) میں استعمال ہونے والے اظہار ’ہندوؤں کے حصے‘ کا کیا مطلب ہے؟
- کیا کوئی شخص جس کا تعلق کسی مذہبی فرقے یا مذہبی گروہ سے نہیں ہے وہ مفاد عامہ کی عرضی دائر کر کے کسی دوسرے فرد کے مذہبی عمل کو چیلنج کر سکتا ہے؟



























