’بغاوت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے‘

اس سے پہلے اخوان المسلمین نے کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا
،تصویر کا کیپشناس سے پہلے اخوان المسلمین نے کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا

مصر میں اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین نے فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے عمل کے خلاف ’پرامن‘ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

اب ان کی تنظیم کے ارکان اور حامی ان کی بحالی کے لیے قاہرہ میں ان بیرکس کے قریب عوامی مظاہرے کر رہے ہیں جہاں محمد مرسی کو رکھے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اخوان المسلمین کی جانب سے جدوجہد جاری رکھنے کا بیان جماعت کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ کے اجراء کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

مصر میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور گزشتہ پیر کو ایسے ہی واقعات میں محمد مرسی کے پچاس حامی مارے گئے تھے۔

اخوان المسلمین کی جانب سے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آئینی جمہوریت کے خلاف فوج کی خونی بغاوت کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ عوام کی پرامن اور مقبول خواہش طاقت اور تشدد پر فتح حاصل کرے گی۔

مصرکی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو گرفتار کرنے کے بعد ’محفوظ مقام‘ پر رکھا گیا ہے۔

مصر میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعطی نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں بتایا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر مرسی کہاں ہیں لیکن صدر مرسی کو ’بہت باعزت طریقے‘ رکھا گیا ہے۔

وزرات خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ صدر مرسی پر ابھی تک الزامات عائد نہیں ہوئے ہیں۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صدر مرسی کو ’اُن کی اپنی حفاظت‘ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ’ ملک کے لیے ضروری ہے کہ انھیں (مرسی) کو محفوظ مقام پر رکھا جائے نہیں تو نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں‘

انھوں نے قاہرہ میں صدارتی گارڈ میں صدر مرسی کی موجودگی کی تردید کی ہے۔

مصر میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پراسیکیوٹرز نے اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ محمد بدیع پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پیر کو قاہرہ میں لوگوں کو تشدد پر اکسایا جس میں 51 افراد مارے گئے۔

صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے قائد اور کئی اعلیٰ رہنما اس وقت حراست میں ہیں جبکہ سینکڑوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

پراسکیوٹر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 200 افراد کو مزید پندرہ دن تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ قتل، تشدد، غیر قانونی آسلحہ رکھنے کی تحقیقات کی جا سکیں جبکہ مظاہروں میں گرفتار ہونے والے 450 افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

پیر کو ہونے والے مظاہروں میں تشدد کے بارے میں معلومات متنازع ہے۔ ان مظاہروں میں 50 سے زیادہ افراد کی ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ روز مصر کی انسانی حقوق کی علمبردار پندرہ تنظیموں نے اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف ’طاقت کے غیر ضروری استعمال کی شدید مذمت‘ کی اور پیر کو ہونے والے واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دارالحکومت قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ مظاہروں کا دائرہ کئی کلومیٹر تک پھیل گیا ہے اور مزید خون ریزی کا امکان ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین یہ محسوس کر رہے ہیں کہ حالات دوبارہ صدر حسنی مبارک کے دور جیسے ہو رہے ہیں جب خوان المسلمین پر پابندی تھی اور اس کے اراکین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

مصر کے وزیراعظم نے نئی کابینہ میں اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (ایف جے پی) اور ’سلافِسٹ نور پارٹی‘ کو عہدوں کی پیشکش کی تھی تاہم دونوں جماعتوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

ایف جے پی کے ایک سینئیر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ’ہم اس وقت تک کابینہ میں کوئی عہدہ قبول نہیں کریں گے جب تک محمد مرسی کی صدارت بحال نہیں کی جاتی‘۔

دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے مصر کی عبوری حکومت کو تیل اور گیس سمیت 12 ارب ڈالر مالیت قرضے اور گرانٹس دینے کا اعلان کیا۔