انتخابات اور آئینی ترامیم کا اعلان مسترد

قاہرہ میں معزول صدر کے حامیوں پر فوج کی فائرنگ کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہو گی
،تصویر کا کیپشنقاہرہ میں معزول صدر کے حامیوں پر فوج کی فائرنگ کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہو گی

مصر میں اخوان المسلمین نے ملک کے عبوری صدر عدلی منصور کے آئندہ سال کے آغاز میں انتخابات کروانے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں مذہبی رجحان رکھنے والی سابق حکومت کے بنائے گئے آئین میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے چار ماہ کے اندر ملک میں ریفرنڈم کروایا جائے گا۔

اخوان المسلمین کے مرکزی رہنما عصام العريان نے انتخابات کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ آئینی ترامیم اور آئندہ سال انتخابات کا منصوبہ ملک کو دوبارہ شروع والی صورتحال پر لے جائے گا‘۔

پیر کی رات کو مصر کے عبوری صدر کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ میں ایک فوجی چوکی کے پاس برطرف صدر مرسی کے حامی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 51 افراد ہلاک ہوگئے۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق آئین میں ترمیم کے لیے آئندہ پندرہ دنوں میں ایک پینل تشکیل دیا جائے جس کے بعد ترامیم کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے ملک بھر میں ریفرنڈم کروایا جائے گا۔

صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئین میں تبدیلی کے لیے ریفرنڈم چار ماہ میں کروایا جائے گا۔ مصر کے عبوری صدر کا کہنا ہے کہ ریفرنڈ کے بعد ملک میں انتخابات کروائے جائیں گے۔

صدرارتی حکم نامے کے مطابق مصر میں سنہ 2014 میں پارلیمانی انتخابات کے بعد صدارتی انتخابات ہوں گے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ عبورلی صدر کے پیش کیے گئے انتخابی شیڈول کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے حالات تیزی سے بہتر ہوں۔

لیکن اس کے برعکس مصر کی فوج کا کہنا ہے کہ ایک ’دہشت گرد گروپ‘ نے صدارتی گارڈز کی فوجی بیرکوں کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔

عبوری صدر عدلی منصور کے دفتر نے ان ہلاکتوں پر ’شدید افسوس‘ کا اظہار کیا ہے اور لوگوں سے نظم و ضبط قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

مصر میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنمصر میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

بہرحال صدر منصور نے ان ہلاکتوں کی عدالتی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور لوگوں سے فوجی اور ’حساس عمارتوں‘ سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (ایف جے پی) نے مصری عوام سے ان لوگوں کے خلاف ’بغاوت‘ کی اپیل کی ہے جو بقول ان کے ’انقلاب پر ٹینکوں سے قدغن لگانا چاہتے ہیں‘۔

ایف جے پی نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر میں ’مزید قتل عام روکنے‘ اور مصر کو ’دوسرا شام‘ بننے سے روکنے کے لیے مداخلت کریں۔

اطلاعات کے مطابق مصر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں میں 300 افراد زخمی ہوئے۔

مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جبکہ صدر مرسی کے حامیوں نے اس اقدام کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

مصر میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مصر کے سابق صدر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھیں صدارتی گارڈز کلب میں رکھا گیا ہے۔