اُریکا دی بولڈ: قرونِ وسطیٰ کی وہ ملکہ جس نے مردوں کی حکمرانی کے روایتی اصول بدل ڈالے

ملکہ اُرّیکا کی پینٹنگ مصور کارلوس موگیقا ای پیریز نے 1857 میں بنائی

،تصویر کا ذریعہFine Art Images/Heritage Images/Getty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ اُرّیکا کی پینٹنگ مصور کارلوس موگیقا ای پیریز نے 1857 میں بنائی
    • مصنف, ایڈیسن ویگا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، برازیل
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

یورپ میں کسی بھی سلطنت پر حکومت کرنے والی پہلی خاتون ملکہ اُریکا کو ان کی بہادری کے سبب ’اریکا دی بولڈ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اریکا اوّل نے لیون اور گلیشیا(سپین پرتگال کے مجموعی علاقے) پر تقریباً 17 برس تک حکومت کی۔

وہ الفانسو ششم (1047-1109) کی سب سے بڑی بیٹی تھیں اور اسی لیے تخت کی وارث بھی ٹہریں تاہم اس دور کے سیاسی خدشات یہ تھے کہ بطور ایک خاتون حکمران انھیں مشکلات کا سامنا ہو گا اسی لیے بادشاہ نے اپنے ناجائز بیٹے سانچو کو جانشین تسلیم کروانے کی کوشش بھی کی۔

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سانچو 1108 میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی جنگ اُکلیس میں لڑتے ہوئے مارے جائیں گے۔

سانچو کی موت کے بعد کنگ الفانسو نے دربار کے امراء اور خطے کے بشپ کو مطلع کیا کہ اب ان کی بیٹی ہی تخت سنبھال سکتی ہے۔

اُریکا، جو اس وقت بیوہ ہو چکی تھیں، کا نام بطور حکمران بادشاہ کے اتحادیوں نے قبول کر لیا۔ لیکن ایک شرط رکھی گئی کہ وہ دوبارہ شادی کریں گی۔

دوسرے لفظوں میں امراء نے خاتون حکمران کو تو مان لیا، مگر اس شرط کو سامنے رکھ کر وہ سمجھے کہ اُریکا اپنے شوہر کے زیرِ اثر ایک کٹھ پتلی کے طور پر حکومت کریں گی۔

اس وقت کی سیاسی گفت و شنید میں یہ طے پایا کہ اُریکا کی شادی الفانسو اوّل آف آراگون (1134-1073) سے کی جائے۔

مورخ ادریانا زیئر کے مطابق اگرچہ وہاں کا قانون ’مرد وارث کی غیر موجودگی میں خواتین کی جانشینی‘ کے خلاف نہیں تھا لیکن یہ سمجھا جاتا تھا کہ ’وہ اپنے شوہر کی سرپرستی میں حکومت کرے گی۔‘

الفانسو ششم شادی سے پہلے ہی وفات پا گئے اور بالآخر اُرّیکا کو ملکہ کا تاج پہنایا گیا۔ وہ یورپ کی پہلی خاتون حکمران بنیں جنھوں نے کسی سلطنت پر حکومت کی کسی بادشاہ کی بیوی کے طور پر نہیں بلکہ سرکاری اختیار کے تحت۔

ہسپانیہ کی شہنشاہ خاتون

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکہ کی سینٹ لوئس یونیورسٹی کے سینٹر فار آئبیریئن ہسٹوریکل سٹڈیز میں ریسرچ فیلو مورخ گلابوئر وِسنِیوسکی اس کو بڑی پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ’یہ اپنے وقت میں واقعی ایک بڑی استثنا تھی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اپنی حکمرانی کے دوران اُرّیکا نے اپنی اخلاقی اور قانونی حیثیت کو جائز ثابت کرنے کے لیے جو کوششیں کیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ انھیں مسلسل مزاحمت کا سامنا رہا۔‘

یونیورسٹی آف سینتیاگو کی محقق و مورخ یولاندا الونسو آریکا کو وہ پہلی خاتون قرار دیتی ہیں جن کے پاس اپنے علاقوں میں مکمل اختیار اور طاقت تھی۔‘

تاہم وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’اس نوعیت کی معلومات کو دوبارہ حاصل کرنے میں بہت بڑی مشکلات ہیں کیونکہ تاریخ نے قرونِ وسطیٰ میں طبقاتی فرق کے باوجود خواتین کے بارے میں بہت سی تفصیلات شامل نہیں۔‘

یولاندا الونسو کہتی ہیں کہ ’اکثر خواتین کو قرونِ وسطیٰ کے مردانہ نقطۂ نظر میں مرکزی کردار نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انھیں بہت سی دستاویزات میں نظرانداز کر دیا گیا۔‘

برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف مارانہاؤ میں پروفیسر زیئرکے مطابق اس وقت سلطنتِ لیون کی اہمیت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ بادشاہ کو ’پورے ہسپانیہ کا شہنشاہ‘ کہا جاتا تھا۔

ان کے مطابق اُرّیکا نے یہ لقب وراثت میں پایا کہ وہ ’پورے ہسپانیہ کی شہنشاہ خاتون‘ تھیں،

اُرّیکا اور الفانسو کی شادی ویسے ہی ہوئی جیسا کہ اُن کے والد نے طے کیا تھا، لیکن یہ ازدواجی رشتہ کسی بھی پہلو سے کامیاب ثابت نہ ہوا

،تصویر کا ذریعہSpencer Arnold Collection/Hulton Archive/Getty Images

،تصویر کا کیپشناُرّیکا اور الفانسو کی شادی ویسے ہی ہوئی جیسا کہ اُس کے والد نے طے کیا تھا، لیکن یہ ازدواجی رشتہ کسی بھی پہلو سے کامیاب ثابت نہ ہوا

اگرچہ اُرّیکا دوبارہ شادی کرنے کی خواہشمند نہیں تھیں تاہم انھوں نے اپنے والد کی خواہش پوری کی اور کچھ ہی عرصے بعد آراگون کے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر اور طاقتور شخص سے شادی کی۔

یہ اتحاد بالآخر عوامی بے چینی کی ایک لہر کا باعث بنا حتیٰ کہ اسی دور میں بغاوتوں کے آثار بھی موجود ہیں۔ خدشہ تھا کہ اقتدار کا مرکز اُس وقت کے سلطنتِ لیون اور گلیشیا سے ہٹ کر سلطنتِ آراگون منتقل ہو جائے گا کیونکہ اس میں پدرسری اور مردانہ سوچ کا غلبہ نمایاں تھا۔

یہ نتیجہ کچھ حد تک اُس تصور کے برعکس تھا جو اُرّیکا کے والد نے اس شادی کی منصوبہ بندی کرتے وقت سوچا تھا۔

انھیں ہرگز گمان نہ تھا کہ اس سے اقتدار کا محور بدل جائے گا، بلکہ وہ لیون کے اثر و رسوخ کو بڑھتے دیکھنا چاہتے تھے، جیسا کہ اس شاہی شادی کے ذریعے آراگون کو عملاً اپنے اندر شامل کر لیا جائے۔

جنگیں، بغاوتیں اور گھریلو تشدد

اس ساری صورتحال میں سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ دونوں جانب کے حمایتی آپس میں ٹکرائے اور حتیٰ کہ اُیاکا کی جانشینی کی حیثیت پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے۔

زیئر کے مطابق جو علاقائی تنازعات اس جوڑے کے درمیان آ چکے تھے وہ بالآخر خانہ جنگی کا باعث بنے۔

اس سب کے دوران اُرّیکا اور الفانسو کا تعلق کسی طور بھی پنپ نہ سکا۔

جو مسائل پہلے پردے میں تھے وہ جلد ہی عوامی سطح پر ظاہر ہونے لگے۔ ملکہ نے اپنے شوہر پر گھریلو تشدد اور استحصال کے الزامات لگائے اور بالآخر 1110 میں ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔

زیئر کہتی ہیں کہ ’تواریخ میں درج ہے کہ وہ آراگون کے بادشاہ کے ہاتھوں جسمانی اور زبانی تشدد کا نشانہ بنیں۔‘

اس وقت تک اُن کا اپنے محبوب کاؤنٹ گومیز گونزالیز کے ساتھ تعلق سب کو معلوم ہو چکا تھا۔ وہ مسلح جدوجہد میں شامل ہوئے تاکہ سلطنتِ لیون کو اُن مخالفین سے بچا سکیں جو آراگون کے لیے لڑ رہے تھے۔

گونزالیز 1111 میں جنگِ کاندیسپینا میں مارے گئے۔

کچھ ہی عرصے بعد اُرّیکا نے ایک اور کاؤنٹ کو اپنا محبوب اور جنگجو بنایا جن کا نام پیڈرو گونزالیز دے لارا تھا۔ پیڈرو نے ملکہ کے پہلے سے موجود دو بچوں کی پدری حیثیت تک قبول کر لی۔

1112 کے آخر میں ملکہ نے پوپ کی رضامندی سے آراگون کے الفانسو کے ساتھ اپنی شادی کو باضابطہ طور پر منسوخ کروایا۔

جنگی میدان میں وہ اپنے باپ سے وراثت میں ملنے والی تقریباً تمام سلطنت دوبارہ اپنے زیرِ اقتدار لانے میں کامیاب ہوئیں۔

کاسٹیلا کا کچھ حصہ خاصی حمایت حاصل ہونے کے باوجود بالآخر الفانسو کے قبضے میں چلا گیا۔

زیئر کہتی ہیں کہ ’اپنی حکمرانی کے دوران اُرّیکا کو مختلف تنازعات کا سامنا رہا اور انھیں اپنے علاقوں پر دوبارہ تسلط حاصل کرنے کے لیے متعدد محاذوں سے لڑنا پڑا۔

یہ تنازعات عموماً الفانسو اوّل کی طرف سے کھڑے کیے جاتے۔

مورخ کہتے ہیں کہ ’وہ طویل عرصے تک شادی کے خاتمے کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔ اریکا کے سابق شوہر خود کو پورے ہسپانیہ کا شہنشاہ کہتے رہے۔‘

اس دور میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی بنیادوں پر بھی جنگیں ہوئیں اور عوامی سطح پر کئی بغاوتیں بھی۔

اُرّیکا 46 برس کی عمر میں 8 مارچ 1126 کو وفات پا گئیں۔ اس تاریخی لمحے سے تقریباً 800 برس قبل جب خواتین نے جدوجہد کر کے اس تاریخ کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کی علامت بنا دیا تھا۔

خاتون ملکہ

ماہر تاریخ زیئر قرونِ وسطیٰ میں رائج روایات کی بنیاد پر اریکا کے بارے عام خیالات کو بھی بیان کرتی ہیں۔

ان کے مطابق زیئر کے مطابق، قرونِ وسطیٰ کی تواریخ میں اُرّیکا کو بارہویں صدی کے دورمیں ایک اچھی ’بیٹی اور بیوی‘ کے طور پر تو بیان کیا گیا تاہم جب وہ خود حکمران بنیں توانھیں ’بدکار اور منحوس عورت‘ کہا گیا۔

زیئر کے مطابق دوسرے لفظوں میں اُس وقت کے نقطۂ نظر کے مطابق ’وہ صرف اُس وقت اچھی‘ سمجھی جاتی تھیں جب وہ بیوی کا کردار ادا کر رہی تھیں جس میں ان کا سیاسی کردارنہیں تھا۔

بعض تواریخ میں ملکہ کو فریب کار اور بے وفا بھی کہا گیا۔ اس بات کے کئی شواہد ہیں کہ ایک عورت کا اقتدار میں ہونا اُس وقت کے مردانہ اشرافیہ کے لیے ناقابل قبول تھا۔

مورخ اور مصنف یری ڈیل پریور نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ ’ان کی شخصیت کو کچھ یوں بیان کیا گیا جس سے خواتین کے اقتدار میں ہونے کی ناپسندیدگی جھلکتی تھی۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’اس بات میں کوئی سکینڈل نہیں تھا کہ ان کا طرز حکمرانی کیا تھا بلکہ سکینڈل یہ تھا کہ وہ بطور عورت حکومت کر رہی تھیں۔‘

ڈیل پریور کے مطابق بعض تواریخ انھیں بہادر اور مضبوط بھی قرار دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اریکا کو’مردانہ شہزادی‘ بھی کہا گیا کیونکہ حکمرانی کے لیے روایتاً مردانہ صفات اپنانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔‘

ماہر بشریات لیدیسے مائیر کہتی ہیں کہ اُرّیکا نے ’بطور حکمران اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی حالانکہ یہ ایک بے مثال منصب تھا اور اس کے ساتھ مشکلات بھی وابستہ تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ سپین کی پہلی ملکہ تھیں جن کے نام اور چہرے کا سکّہ ڈھالا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طلیطلا میں ڈھالا گیا ایک سکّہ اُن کے نام کے ساتھ ’RE‘ کے حروف پر مبنی تھا۔‘

اور یہی ابہام تھا۔ یہ اختصار ریکس (بادشاہ) یا ریگینا (ملکہ) دونوں کے لیے ہو سکتا تھا۔

Ilustración de Urraca

،تصویر کا ذریعہPHAS/Universal Images Group via Getty Images

،تصویر کا کیپشناُرّیکا کو اپنے علاقوں کو واپس حاصل کرنے اور محفوظ رکھنے کے لیے کئی جھگڑوں اور لڑائیوں کا سامنا رہا

مائیر کا کہنا ہے کہ ’یہ ابہام ہمیشہ اُرّیکا کی حکمرانی میں موجود رہا۔ انھیں اکثر دستاویزات میں ’بادشاہ‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ وہ یورپ کی پہلی خاتون حکمران تھیں۔‘

وِسنِیوسکی کا کہنا ہے کہ ’وہ بلا شبہ ایک زیرک حکمران تھیں جو مشکل حالات کو بڑی مہارت سے سنبھالتی تھیں‘

رودریگیز کے نزدیک ملکہ ایک ’پُرعزم اور طاقتور‘ خاتون تھیں۔

زیئر کہتی ہیں کہ اریکا سلطنت کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے بادشاہ کی بیوی سے بڑھ کر خود ’بادشاہ‘ بن گئی تھیں۔ باوجود اس کے کہ اُن کے شوہر لیون اور کاسٹیلا کی زمینوں پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔‘

ان کے مطابق ’ہر وقت ملکہ اپنی قانونی حیثیت اور حکمرانی کی صلاحیت کو ثابت کرنے کی فکر میں رہتی تھیں۔‘

 اریکا کو'مردانہ شہزادی' بھی کہا گیا

،تصویر کا ذریعہPrisma/UIG/Getty Images

،تصویر کا کیپشن اریکا کو'مردانہ شہزادی' بھی کہا گیا کیونکہ حکمرانی کے لیے روایتاً مردانہ صفات اپنانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔'

اقتدار کے خلاف مزاحمت

زیئر کہتی ہیں کہ اُرّیکا عورت کو کمزور سمجھنے کا تصور ختم کرنے کی بہترین مثال ہیں۔ وہ مردوں کے لیے مخصوص سمجھے جانے والے منصب میں بطور عورت حکمران بنیں جو نصابی کتابوں یا کہانیوں میں دکھائی جانے والی کمزور اور محتاج عورتوں جیسی ہرگز نہ تھیں۔

ان کے دورِ حکومت میں جنگیں نمایاں رہیں۔ اگرچہ توقع یہ کی جاتی تھی کہ وہ کسی قلعے میں چھپ کر اپنی حفاظت کریں گی تاہم ہوا اس کے برعکس۔

ہتھیاروں، معاہدوں اور قانونی جواز کے ذریعے انھوں نے اقتدار کو قائم رکھا۔

وِسنِیوسکی کے مطابق اریکا نے اپنے جانشین کے لیے نسبتاً پُرامن سلطنت چھوڑی، حالانکہ انھیں مسلسل سخت مخالفت کا سامنا رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سیاسی صلاحیت عام حکمرانوں سے کہیں زیادہ تھی۔

زیئر کہتی ہیں کہ ملکہ اُرّیکا ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ عورتیں ماضی اور حال میں کس طرح اقتدار کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وہ بغیر مرد سرپرستی کے حکومت کرنے میں کامیاب ہوئیں، سلطنت کو متحد رکھا اور اپنے بیٹے کے لیے جانشینی یقینی بنائی۔‘

پریور کی رائے میں اریکا کو ’فیمینسٹ ہیروئن‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ وہ عورتوں کی آزادی کے کسی پروگرام کے تحت نہیں بلکہ سلطنت اور خاندان کی بقا کے لیے حکومت کر رہی تھیں۔

مورخ ما ئیرا روسِن کہتی ہیں کہ ان کی تاریخ کو یاد کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں اقتدار صرف مردوں کے پاس نہیں تھا۔ یہ خواتین کو یورپی سیاست کے تناظر میں شامل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

وِسنِیوسکی کے مطابق بارہویں صدی کے یورپی حکمرانوں کی فہرست میں اُرّیکا کی موجودگی تاریخی اور علامتی طور پر بہت اہم ہے۔

ان کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نہایت پُرجوش اور زیرک حکمران تھیں جنھوں نے پیچیدہ خاندانی تنازعات کے درمیان سلطنت سنبھالی۔