ملکہ الزبتھ دوم: فرض کے احساس پر مبنی ایک طویل زندگی کا نام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملکہ الزبتھ دوم کا طویل دور حکمرانی اپنے فرض کی ادائیگی کے مضبوط احساس اور اپنی زندگی کو اپنے تخت اور اپنے لوگوں کے لیے وقف کرنے کے عزم سے یاد کیا جاتا ہے۔
بہت سے لوگوں کے لیے وہ تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں استحکام کی نشانی تھیں کیونکہ دنیا میں برطانوی اثر و رسوخ میں کمی آئی، معاشرے میں تیزی سے تبدیلی آئی اور بادشاہت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
مشکل وقتوں میں بادشاہت کو برقرار رکھنے میں ان کی کامیابی اس لیے بھی قابل تعریف رہی کیونکہ ان کی پیدائش کے موقع پر کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ تخت ان کا مقدر بنے گا۔
الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈزر 21 اپریل 1926 کو لندن کے علاقے مے فیئر میں بیرکیلی سکوئر میں واقع ایک گھر میں پیدا ہوئیں۔ وہ جارج پنجم کے دوسرے بیٹے ڈیوک آف یورک البرٹ اور سابق لیڈی الزبتھ بؤس لیون کی پہلی اولاد تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

الزبتھ اور ان کی بہن مارگریٹ روز، جو سنہ 1930 میں پیدا ہوئی تھیں، نے گھر پر ہی تعلیم حاصل کی اور بہت پیار بھرے خاندانی ماحول میں پرورش پائی۔ الزبتھ اپنے والد اور دادا دونوں سے انتہائی قریب تھیں۔
چھ برس کی عمر میں الزبتھ نے گھڑ سواری سکھانے والے اپنے استاد کو بتایا کہ وہ دیہی زندگی گزارنا چاہتی ہیں جہاں ان کے اردگرد بہت سے گھوڑے اور کتے ہوں۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بہت کم عمری سے ہی انتہائی ذمہ داری کے احساس کا مظاہرہ کیا۔ مستقبل کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے ان کے بارے میں ایک بار کہا تھا کہ وہ ’اپنے بچپن میں ہی حاکمانہ انداز رکھتی تھیں۔‘
باوجود اس کے کہ وہ کبھی سکول نہیں گئیں، ان کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور انھوں نے آئینی تاریخ کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا۔
ایک خصوصی گرل گائیڈز کمپنی دی فرسٹ بکنگھم پیلس بنائی گئی تاکہ وہ اپنی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ گھل مل سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 1936 میں جارج پنجم کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے ڈیوڈ، ایڈورڈ ہشتم کے نام سے تخت نشین ہوئے۔
تاہم شادی کے لیے انھوں نے دو بار طلاق یافتہ امریکی والس سمپسن کا انتخاب کیا جو سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر ناقابل قبول تھا۔ سال کے اختتام پر وہ تخت سے دست بردار ہو گئے۔
تذبذب کے شکار ڈیوک آف یورک بادشاہ جارج ششم بن گئے۔ ان کی تاجبوشی سے الزبتھ کو اندازہ ہوا کہ مستقبل میں ان کے لیے کیا ہے اور اس کے بعد انھوں نے لکھا کہ انھوں نے تقریب کو ’بہت، بہت شاندار‘ پایا۔
یورپ میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں نئے بادشاہ نے اپنی اہلیہ ملکہ الزبتھ کے ساتھ مل کر بادشاہت پر عوامی اعتماد بحال کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ ان کی اس مثال پر ان کی بڑی بیٹی نے بھی عمل کیا۔
سنہ 1939 میں 13 برس کی شہزادی بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ ڈارٹ ماؤتھ میں رائل نیول کالج کے دورے پر گئیں۔
ان کا اور ان کی بہن مارگریٹ کا استقبال کرنے والے کیڈٹس میں سے ایک ان کے کزن اور یونان کے شہزادہ فلپ بھی تھے۔
مشکلات

،تصویر کا ذریعہPA

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی لیکن یہ پہلی بار تھی کہ الزبتھ نے ان میں دلچسپی لی۔
پرنس فلپ جب بھی نیوی سے چھٹی پر ہوتے تو اپنے شاہی رشتے داروں کو بلاتے اور سنہ 1944 تک، جب الزبتھ 18 برس کی تھیں، وہ واضح طور پر ان سے محبت کرنے لگی تھیں۔ وہ پرنس فلپ کی تصویر اپنے کمرے میں رکھتی تھیں اور دونوں میں خطوط کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔
نوجوان شہزادی نے عالمی جنگ کے اختتام سے پہلے ٹی ایس میں شرکت اختیار کی اور گاڑی چلانا اور لاری سروس کی تربیت حاصل کی۔
دوسری عالمی جنگ میں فتح کے روز وہ شاہی خاندان کے ساتھ بکنگھم پیلس آئیں کیونکہ ہزاروں لوگ یورپ میں جنگ کے خاتمے کا جشن منانے کے لیے وہاں جمع تھے۔
وہ بعد میں یاد کرتی تھیں کہ ’ہم نے اپنے والدین سے پوچھا کہ کیا ہم باہر جا سکتے ہیں اور گھوم پھر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمیں خوف تھا کہ ہم پہچانے جائیں گے۔ مجھے نامعلوم افراد وائٹ ہال کی راہداریوں میں گھومتے پھرتے یاد ہیں۔ ہم سب اس وقت جوش کی ایک لہر میں بہتے چلے گئے۔‘
جنگ کے بعد ان کی شہزادہ فلپ سے شادی کی خواہش کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بادشاہ اپنی اس بیٹی کو کھو دینے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے جن سے انھیں بہت زیادہ محبت تھی اور فلپ کو ایک ایسی اسٹیبلشمنٹ کے تعصب کا سامنا کرنا تھا جو ان کی غیر ملکی نسل کو قبول نہ کرتی۔
والد کی موت
مگر اس جوڑے کے خواب پورے ہوئے اور 20 نومبر 1947 کو ویسٹ منسٹر ایبی میں ان کی شادی ہو گئی۔
فلپ کو ڈیوک آف ایڈنبرا کا خطاب دیا گیا مگر وہ بحریہ کے افسر رہے۔ کچھ دیر کے لیے انھیں مالٹا میں تعینات کیا گیا جس کا مطلب تھا کہ یہ نوجوان جوڑا قدرے عام زندگی گزار سکتا تھا۔
ان کے پہلے بیٹے شہزادہ چارلس سنہ 1948 میں پیدا ہوئے جس کے بعد ان کی بہن شہزادی این سنہ 1950 میں پیدا ہوئیں۔
مگر کئی برسوں تک جنگ کے دباؤ کے بعد بادشاہ پھیپھڑوں کے کینسر کی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو چکے تھے جس کی وجہ بہت زیادہ سگریٹ نوشی کی عادت تھی۔
جنوری 1952 میں الزبتھ (جو اس وقت 25 برس کی تھیں) اور فلپ بادشاہ کی جگہ بیرون ملک دورے پر روانہ ہوئے۔ ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجود بادشاہ انھیں ایئرپورٹ چھوڑنے آئے۔ یہ آخری موقع تھا جب الزبتھ نے اپنے والد کو دیکھا۔
الزبتھ کینیا کے سیاحتی مقام پر ٹھہری ہوئی تھیں جب انھیں بادشاہ کی موت کی اطلاع ملی۔ وہ بطور نئی ملکہ فوراً لندن پہنچیں۔
انھوں نے بعد میں اس بارے میں بتایا کہ ’ایک طرح سے میری تربیت نہیں ہوئی تھی۔ میرے والد بہت جوان تھے جب ان کی موت ہوئی۔ یہ سب اچانک ہوا اور میرے لیے یہ اتنی ہی اچھی کوشش تھی جتنی آپ ایسے حالات میں کر سکتے ہیں۔‘
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ

،تصویر کا ذریعہPA
جون 1953 میں ان کی تاج پوشی کی تقریب کو وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی مخالفت کے باوجود ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ پہلی بار لاکھوں لوگ سکرینز کے سامنے جمع ہوئے اور انھوں نے ملکہ الزبتھ دوم کو عہدے کا حلف لیتے دیکھا۔
برطانیہ میں اس وقت جنگ کے بعد کفایت شعاری کی مہم جاری تھی۔ مبصرین نے اس تاج پوشی کو الزبتھ کے دور کی نئی صبح قرار دیا۔
دوسری عالمی جنگ سے برطانوی راج کا خاتمہ تیز ہوا اور جب نومبر 1953 کے دوران نئی ملکہ دولتِ مشترکہ کے ممالک کے طویل دورے پر روانہ ہوئیں تو انڈیا سمیت کئی ملک جو برطانیہ کے زیر انتظام تھے انھیں آزادی مل چکی تھی۔
شاہی خاندان میں الزبتھ اپنے دور کی پہلی حکمراں بن گئیں جنھوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دورہ کیا۔ اندازوں کے مطابق تین چوتھائی آسٹریلوی شہری انھیں براہ راست دیکھنے کے لیے باہر نکلے۔
پچاس کی دہائی کے دوران مزید ملکوں نے یونین جیک اتار پھینکا۔ اس بار سابقہ نوآبادیاتی علاقے اور ڈومینین اپنی مرضی سے قوموں کا خاندان بنے اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
کئی سیاستدانوں کا خیال تھا کہ دولتِ مشترکہ نئی ابھرنے والی یورپی اکنامک کمیونٹی کے مقابل کھڑی ہو سکتی ہے اور کچھ حد تک برطانوی پالیسی اس براعظم سے پیچھے ہٹ گئی۔
ذاتی حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 1956 میں نہر سوئز کے بحران میں برطانوی اثر و رسوخ کم ہوا اور یہ واضح ہو گیا کہ دولتِ مشترکہ کے ارکان کے پاس بحران میں اجتماعی فیصلہ سازی کا فقدان تھا۔
مصر کی جانب سے نہر سوئز کو قومیانے کے خطرے کے ردعمل میں برطانوی دستے بھیجے گئے مگر یہ فیصلہ ذلت آمیز انخلا میں بدل گیا۔ اس پر وزیر اعظم انتھونی ایڈن مستعفی ہوئے۔
اس سے ملکہ کو سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ کنزرویٹو پارٹی میں نیا رہنما منتخب کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ مشاورت کے کئی ادوار کے بعد ملکہ نے ہیرلڈ مکمیلن کو نئی حکومت بنانے کے لیے مدعو کیا۔
ملکہ کو لارڈ اولٹرنگم کی جانب سے ذاتی حملے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ میگزین کی ایک تحریر میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملکہ کا دربار ’بہت زیادہ برطانوی‘ اور ’اونچے طبقے‘ کے لیے ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملکہ لکھے ہوئے جملوں کے بنا سادہ تقریر نہیں کر سکتیں۔
ان کے بیان سے پریس میں ہنگامہ برپا ہوا اور لارڈ اولٹرنگم پر باہر سڑک پر لیگ آف ایمپائر لائلسٹس کے ایک رکن کی جانب سے حملہ کیا گیا۔
تاہم اس واقعے سے ظاہر ہوا کہ برطانوی معاشرے میں شاہی خاندان سے متعلق رویے تیزی سے بدل رہے تھے اور صدیوں پرانے خیالات پر سوالات اٹھائے جانے لگے تھے۔
’مونارکی‘ سے ’رائل فیملی‘ تک کا سفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس موقع پر شوہر کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ملکہ نے نئے طریقۂ کار کی پیروی شروع کر دی۔ ان کے شوہر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ دربار کے روایتی ماحول سے ناخوش تھے۔
دربار میں پہلی بار آنے والوں کے استقبال کی روایت ختم کر دی گئی اور لفظ ’مونارکی‘ کو ’رائل فیملی‘ (شاہی خاندان) سے بدل دیا گیا۔
ملکہ ایک بار پھر سیاسی تنازع میں بحث کا مرکز بنیں جب 1963 میں ہیرلڈ مکمیلن بطور وزیر اعظم مستعفی ہوئے۔ کنزرویٹو پارٹی نے اب بھی نئے رہنما کے انتخاب کا طریقہ کار طے کرنا تھا۔ ملکہ نے ہیرلڈ مکمیلن کا مشورہ قبول کرتے ہوئے ان کی جگہ ارل آف ہوم کو تعینات کیا۔
ملکہ کے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا۔ ان کا دور حکمرانی آئینی درستگی کے لیے جانا جاتا تھا اور برسرِ اقتدار حکومت سے شاہی خاندان مزید دور ہو رہا تھا۔
ملکہ نے باخبر رکھے جانے، تجویز دینے اور متنبہ کرنے کے اپنے حقوق کو بہت سنجیدگی سے لیا مگر ان سے تجاوز نہیں کیا۔
یہ آخری موقع تھا جب انھیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ کنزرویٹو پارٹی نے بالآخر اس روایت سے دوری اختیار کی جس میں جماعت کا نیا رہنما ’اچانک‘ ابھرتا تھا۔ اس کام کے لیے ایک منظم طریقہ کار تشکیل دیا گیا۔
پُرسکون ماحول
ساٹھ کی دہائی کے اواخر تک بکنگھم پیلس نے فیصلہ کیا کہ مثبت اقدام کی ضرورت ہے تاکہ شاہی خاندان کو رسمی انداز میں کم دکھایا جائے تاکہ عوام ان سے قربت محسوس کریں۔
نتیجہ تھا ایک دستاویزی فلم جس کا نام تھا ’رائل فیملی۔‘ بی بی سی کو شاہی خاندان کی فلمبندی کی اجازت ملی اور اس فلم میں شاہی خاندان کے ارکان بار بی کیو کرتے، کرسمس ٹری سجاتے، بچوں کو سیر پر لے جاتے اور ایسے عام کام کرتے دکھائے گئے جنھیں عوام نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔
فلمی ناقدین کا دعویٰ ہے کہ رچرڈ کاسٹن کی فلم نے شاہی خاندان کو عام لوگوں جیسا دکھا کر ان سے جڑے خیالات کی حوصلہ شکنی کی۔ اس میں ایسے مناظر بھی تھے جن میں ڈیوک آف ایڈنبرا بیلمورل کے باغیچے میں ساسیج باربی کیو کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHulton Archive / Getty Images

مگر اس فلم نے پُرسکون ماحول والے وقتوں کی عکاسی کی اور اس سے عوام میں شاہی خاندان کی حمایت کافی حد تک بحال ہوئی۔
سنہ 1977 کے دوران ملکہ کے اقتدار کی سلور جوبلی کے موقع پر سٹریٹ پارٹیز منعقد ہوئیں اور تمام ملک میں تقاریب ہوئیں۔ لوگوں کی نظروں میں اپنے لیے محبت دیکھ کر شاہی خاندان میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا اور اس میں ملکہ کا بڑا کردار تھا۔
دو سال بعد مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ خیال ہے کہ ریاست کی خاتون سربراہ اور حکومت کی خاتون سربراہ کے درمیان بعض اوقات تعلقات تلخ رہے۔
سکینڈل اور تنازعات

،تصویر کا ذریعہPA

دولتِ مشترکہ سے ملکہ کا لگاؤ ایک مشکل شعبہ تھا۔ ملکہ الزبتھ افریقی رہنماؤں کی مہم کے لیے نرم گوشہ رکھتی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہ تھیچر کے رویے اور جارحانہ انداز خصوصاً امتیازی سلوک کی پالیسی پر جنوبی افریقہ کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کو سمجھ نہیں پا رہی تھیں۔
ہر گزرتے سال کے ساتھ ملکہ کی عوامی ذمہ داریاں جاری رہیں۔ سنہ 1991 میں خلیج کی جنگ کے بعد وہ امریکہ جانے والی پہلی برطانوی حکمراں تھیں جنھوں نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے کہا کہ وہ ’جب سے ہمیں یاد پڑتا ہے آزادی کی دوست رہی ہیں۔‘
تاہم ایک سال بعد مسلسل سکینڈلز اور تنازعات سے شاہی خاندان متاثر ہوا۔
ملکہ کے دوسرے بیٹے ڈیوک آف یارک شہزادہ اینڈریو اور ان کی بیوی سارا میں علیحدگی ہوگئی جبکہ شہزادی این کی مارک فلپس سے شادی طلاق پر ختم ہوئی۔ پھر یہ واضح ہونے لگا کہ ویلز کے شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں اور پھر ان میں علیحدگی ہو گئی۔
اسی سال ملکہ کے پسندیدہ ونڈزر کاسل میں آتشزدگی ہوئی۔ یہ ایسی علامت تھی کہ شاہی گھرانہ مشکل میں گھرا ہے۔ عوامی سطح پر یہ تنازع بھی ابھرا کہ مرمت کے اخراجات آیا ٹیکس دہندگان کو بھرنے چاہییں یا ملکہ کو۔
عوامی بحث میں بھی پُروقار انداز
ملکہ نے 1992 کو ’مشکلات کا سال‘ قرار دیا۔ سٹی آف لندن میں تقریر کے دوران انھوں نے اس پر زور دیا کہ شاہی خاندان کو زیادہ کھل کر رہنے کی ضرورت ہے اور اس کے بدلے میڈیا کو اس کی کم مخالفت کرنی چاہییے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی ادارہ، شہر، شاہی خاندان یا کوئی بھی ایسے عناصر کی جانچ پڑتال سے ماورا ہونے کی توقع نہیں کرتا ہے جو ان کے وفادار ہیں اور حمایت کرتے ہیں۔ ان کا ذکر بھی ضروری ہے جو ایسا نہیں کرتے۔
’ہم اس قومی معاشرے کے اسی دھارے کا حصہ ہیں اور جانچ پڑتال تب بھی اتنی ہی مؤثر ہو سکتی ہے اگر یہ احترام، اچھے جذبے اور سمجھ بوجھ کے ساتھ کی جائے۔‘
شاہی خاندان کا ادارہ کافی حد تک دباؤ میں تھا۔ ونڈزر میں مرمت کے لیے پیسے جمع کرنے کی خاطر بکنگھم پیلس کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ اعلان کیا گیا کہ ملکہ اور پرنس آف ویلز سرمایہ کاری کی آمدن پر ٹیکس ادا کریں گے۔
ان کے دور حکمرانی کے آغاز میں بیرون ملک خاص کر دولتِ مشترکہ سے جڑی امیدیں پوری نہ ہوسکیں۔ برطانیہ اپنے پرانے شراکت داروں سے منھ موڑ کر یورپ میں نئی ترتیب کا حصہ بن چکا ہے۔
ملکہ اب بھی دولتِ مشترکہ کو اہمیت دیتی تھیں اور انھوں نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی پالیسی (اپارتھائیڈ) ترک کیے جانے پر اطمینان ظاہر کیا۔ مارچ 1995 میں ایک دورے کے ذریعے انھوں نے اس کا جشن بھی منایا۔
اپنے ملک میں ملکہ نے شاہی خاندان کے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جبکہ عوام میں یہ بحث جاری تھی کہ آیا اس ادارے کا کوئی مستقبل ہے بھی یا نہیں۔
شہزادی ڈیانا کی موت

،تصویر کا ذریعہPA

ایک ایسے وقت میں برطانیہ کو نئی منزل کی تلاش تھی، ملکہ الزبتھ کی شخصیت حوصلہ افزا رہی۔ سخت لمحات میں بھی ان کی مسکراہٹ سے معاملات بہتر ہو جاتے تھے۔ انھوں نے سب سے زیادہ اہمیت اس کردار کو دی کہ وہ قوم کے لیے یکجہتی کی علامت ہیں۔
تاہم شاہی خاندان مشکل میں تھا۔ ویلز کی شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد ملکہ پر غیر معمولی تنقید ہوئی۔ ڈیانا اگست 1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہوئی تھیں۔
لندن میں لوگ جمع ہوئے اور پھولوں کے نذرانے پیش کیے گئے۔ دیگر عظیم قومی لمحات کے برعکس ملکہ نے اس موقع پر توجہ دینے میں بظاہر ہچکچاہٹ دکھائی۔
ان کے کئی نقاد یہ سمجھ نہ پائے کہ ملکہ کا تعلق ایسی نسل سے تھا کہ جو کئی بار عوامی سطح پر غمی کے ایسے اظہار سے گزر چکے تھے جیسا شہزادی کی موت کے بعد ہوا۔
انھیں محسوس ہوا کہ انھیں خاندان کے اندر رہتے ہوئے بطور دادی ڈیانا کے بیٹوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے اور ان کا خیال رکھنا ہے۔
آخرکار انھوں نے لائیو نشریات میں اپنی بہو کو خراج تحسین پیش کیا اور یہ عزم ظاہر کیا کہ شاہی خاندان خود کو حالات کے تحت ڈھال لے گا۔
شکست اور جیت کا جشن

،تصویر کا ذریعہPA

سنہ 2002 میں ملکہ کی گولڈن جوبلی کے سال میں مادر ملکہ اور شہزادی مارگریٹ کی موت نے ان کے دور حکمرانی کو خراج تحسین پیش کرنے والی تمام تقاریب کو ماند کر دیا۔
اس کے باوجود اور اس سوال کے ہوتے ہوئے کہ آیا شاہی خاندان کا کوئی مستقبل ہو گا، جوبلی کی شام بکنگھم پیلس کے سامنے دی مال پر لاکھوں لوگ جمع ہوئے۔
اپریل 2006 میں ہزاروں حامی ونڈزر کی گلیوں میں جمع ہوئے اور اپنی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ملکہ نے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔
نومبر 2007 میں انھوں نے شہزادہ فلپ کے ساتھ اپنی شادی کے 60 سال منائے اور اس تقریب کے موقع پر ویسٹ منسٹر ایبی میں دو ہزار لوگ اکٹھے ہوئے۔
اپریل 2011 میں ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ آیا جب ملکہ نے اپنے پوتے ڈیوک آف کیمبرج ولیم کی کیتھرین مڈلٹن سے شادی میں شرکت کی۔
مئی میں وہ پہلی برطانوی حکمراں بنیں جنھوں نے جمہوریہ آئرلینڈ کا سرکاری دورہ کیا۔ اس کی تقریبات تاریخی اہمیت کی حامل تھیں۔
تقریر کا آغاز انھوں نے آئرش زبان میں کیا اور مزاحمت و ثالثی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ہماری خواہش ہے کہ چیزیں مختلف انداز میں ہوئی ہوتیں یا کبھی ہوئی ہی نہ ہوتیں۔‘
ریفرنڈم

،تصویر کا ذریعہPA

ایک سال بعد ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب کے سلسلے میں شمالی آئرلینڈ میں دورے کے دوران انھوں نے سابقہ آئرش رپبلکن آرمی (آئی آر اے) کمانڈر مارٹن مکگنیس سے ہاتھ ملایا۔
یہ ملکہ کے لیے مایوسی کا باعث بھی تھا کیونکہ ان کے پسندیدہ کزنز میں سے ایک اور انڈیا کے آخری وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن 1979 میں آئی آر اے کے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔
ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے اور لندن میں ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران تقاریب میں اس کا جشن منایا گیا۔
ستمبر 2014 کے دوران سکاٹ لینڈ کی آزادی کا ریفرنڈم بھی ملکہ کے لیے ایک امتحان تھا۔ سنہ 1977 کے دوران پارلیمنٹ میں ان کی تقریر کوئی نہیں بھولا تھا جس میں انھوں برطانیہ کے لیے اپنی ذمہ داری کو واضح طور پر بیان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے آبا و اجداد میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے بادشاہوں اور ملکاؤں اور ویلز کے شہزادوں کو گن سکتی ہوں اور اسی لیے میں ان خواہشات کو سمجھ سکتی ہوں۔ مگر میں یہ نہیں بھول سکتی کہ مجھے گریٹ برٹن میں برطانیہ اور شمالی آئر لینڈ کی ملکہ بنایا گیا۔‘
بیلمورل میں سکاٹش ریفرنڈم کی شام ایک بیان میں، جو ظاہری طور پر کسی اور سے سنا گیا، انھوں نے امید ظاہر کی کہ لوگ مستقبل کے بارے میں بہت دھیان سے سوچیں گے۔
نتائج آنے پر انھوں نے اپنے بیان میں اطمینان ظاہر کیا کہ اتحاد قائم ہے۔ مگر انھوں نے تسلیم کیا کہ سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب جب ہم آگے بڑھ رہے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مختلف آرا جو ظاہر کی گئی ہیں ان سب میں سکاٹ لینڈ کے لیے محبت قدر مشترک ہے جو ہمیں متحد ہونے میں مدد کرنے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نو ستمبر 2015 کو برطانوی تاریخ میں ان کا دور حکمرانی سب سے طویل بن گیا اور اس نے ملکہ وکٹوریہ کے عہد کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اپنے مخصوص انداز میں انھوں نے اس پر کچھ زیادہ کہنے کے بجائے بس اتنا کہا کہ ’میں نے اس کی کبھی خواہش نہیں کی تھی۔‘
ایک سال بعد اپریل 2016 میں انھوں نے اپنی 90ویں سالگرہ منائی۔ اس عمر میں بھی انھوں نے اپنی عوامی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ سنہ 2017 میں ڈیوک آف ایڈنبرا کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اکثر اکیلی یہ ذمہ داریاں نبھاتی تھیں۔
خاندان کے وقار پر نئے داغ لگتے رہے جن میں ان کے شوہر کا کار حادثہ، ڈیوک آف ایڈنبرا کا ایک سزا یافتہ امریکی کاروباری شخصیت سے دوستی کا بُرا فیصلہ اور شہزادہ ہیری کی شاہی خاندان میں زندگی سے بڑھتی اکتاہٹ شامل ہیں۔
ان پریشان کن لمحات کے ہوتے ہوئے وہ ایسی حکمراں بنیں جنھوں نے حالات کو قابو میں رکھا۔
شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملکہ کے دور کے اواخر میں بادشاہت اس قدر مضبوط نہیں تھی جتنی شروع میں تھی۔ مگر انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ برطانوی شہریوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت اور احترام قائم رہے۔
سلور جوبلی کے موقع پر انھوں نے اسی عزم کو دہرایا جو انھوں نے جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران 30 سال قبل ظاہر کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں 21 سال کی تھی تو میں نے لوگوں کی خدمات کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وعدے کی تکمیل کے لیے خدا کی مدد مانگی۔
’اگرچہ یہ عہد میری نوجوانی کا ہے جب میری سمجھ بوجھ کم تھی تاہم مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں اور میں اس کا ایک لفظ بھی واپس نہیں لوں گی۔‘





