مرسی زیرِحراست، سینکڑوں ارکان کےگرفتاری وارنٹ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اخوان المسملین کے 35 سینیئر رہنماوں کے سفر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اخوان المسملین کے 35 سینیئر رہنماوں کے سفر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے

مصر کی فوج نے محمد مرسی کی حکومت ختم کرنے کے بعد محمد مرسی کو حراست میں لیا ہے اور اخوان المسلمین کے رہنماوں کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے ان کے تین سو ارکان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ محمد مرسی اور ان کے تمام صدارتی ٹیم کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات یہ کہہ کر کہ ’محمد مرسی لوگوں کے مطالبات پورا کرنے میں ناکام ہوگئے‘ محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔فوجی اقدام کو محمد مرسی نے ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

جہاد الحداد نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ اخوان المسلمین ’فوجی بغاوت‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ انھوں نے محمد مرسی اور زیرِحراست دوسرے افراد کے رہائی کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین نئی حکومت کے سے بالکل تعاون نہیں کرے گی اور وہ ’لوگوں کی طرف سے کیے گئے پرامن احتجاج‘ میں حصہ لے گی۔

دریں اثنا فوج نے اپنے فیس بک کے صفحے پر پیغام میں کہا ہے کہ پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آذادی ہر شخص کا حق ہے۔

جہاد الحداد کے والد اور محمد مرسی کے سینیئر مشیر ایسام الحداد اور فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سربراہ سعدالقطاتنی بھی زیرِ حراست افراد میں شامل ہیں۔

جمعرات کو نامعلوم سرکاری اہلکارروں نے کہا کہ اخوان المسلمین کے رہنماءِ اعلیٰ محمد بادی کو بھی مصرہ متروح میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اخوان المسلمین کے تقربیاً تین سو ارکان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

حراست میں لیے گئے بعض افراد بشمول محمد مرسی کے خلاف ’توہینِ عدالت‘ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اخوان المسملین کے 35 سینیئر رہنماوں کے سفر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری طرف مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں تمام گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی نئی حکومت میں شریک ہوں۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد عدلی منصور نے مصری عوام سے ایک منصفانہ جمہوریت کا وعدہ کیا جس میں سابق صدر مرسی کی اخوان المسلمین بھی شامل ہوگی۔

اخوان المسلمین اور اس کے سیاسی شاخ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی(ایف جے پی) کے سینیئر رہنماوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ کام نہیں کریں گے لیکن وہ ان کے خلاف نہ خود ہتھیار اٹھائیں گے اور نہ اپنے کارکنوں کی ایسا کرنے کے لیے حوصلہ آفزائی کریں گے۔

آئین کی پاسداری کی قومی اتحاد نے جو اسلامی جماعتوں کی ایک اتحاد ہے نمازِ جمعہ کے بعد اجتماعی دعا اور فوجی اقدامات کے مذمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر سرکاری میڈیا کے مطابق مصر کی بااثر سلفی تحریک نے اسلام پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے احتجاج بند کریں۔

مصر کی فوج نے گزشتہ شب صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا
،تصویر کا کیپشنمصر کی فوج نے گزشتہ شب صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا

مصر کی فوج نے بدھ کی رات صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد، ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ اتوار سے شروع ہونے والے پْرتشدد مظاہروں کےدوران اب تک پچاس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ مرسی کے حامی اور مخالفین کے درمیان محاذ آرائی کا خدشہ ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مصر کی فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے اور آئین کو معطل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ادھر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے حامی ٹی وی چینلز کی نشریات بھی بند کی گئیں ہیں اور ایک سرکاری چھاپا خانے نے ایف جے پی کے اخبار کو بھی چھاپنے سے انکار کیا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے الجزیرہ کے مصر میں چینل کے دفتر پر چھاپہ مار کر چینل کے عملے کو حراست میں لیا ہے جس کی الجزیرہ نے مذمت کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چینلز کی نشریات کے بندش کو’اظہارِ رائے کی آذادی‘ کے لیے بڑا دھچکہ قرار دیا۔

محمد مرسی کو اقتدار سے نکالنے میں آرمی کے کردار پر جمعرات کو جشن مناتے ہوئے ہوائی جہاز ہوا میں دھوے کے بادل بناتے نظر آئے۔

دوسری طرف محمد مرسی کے حامیوں نے احتجاجی دھرنے دیے اور انھوں نے فوجی اقدامات کو جمہوریت کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔

محمد مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد کسی مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے مصر کے پہلے صدر بنے تھے۔ ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔