مصر: امریکہ اور اقوام متحدہ ’گرفتاریوں کے خلاف‘

امریکہ نے مصر کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے ارکان کی اندھا دھند گرفتاریاں روک دے اور کسی بھی ایک گروہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ ’اگر آپ کا مقصد سب عناصر کو شامل کرنا ہے تو آپ اپنے خلاف ہی کام رہے ہیں۔‘
ادھر اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کی مون نے بھی کسی ایک جماعت کو علیحدہ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
جمعے کو قاہرہ میں فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کی برطرفی کی حمایت میں اور اس کے خلاف مظاہرے متوقع ہیں۔
صدر مرسی کے حامی ان کو دوبارہ ان کے عہدے پر فائض کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انھوں نے اس ہفتے ان بیرکوں کے قریب مظاہرے جاری رکھے ہیں جہاں خیال کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر نظر بند ہیں۔
جمعرات کو امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے نو اعلیٰ عہدیداروں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
جے کارنی کا کہنا تھا کہ ’یہ سارا معاملہ اُسی وقت کامیابی کو پہنچے گا جب تمام جماعتوں کی شرکت کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انھیں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔ اسی لیے ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہم اندھا دھند گرفتاریوں کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘
مصر کے وزیرِ خارجہ کامل امر سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا کہ مصر میں کسی بھی بڑی پارٹی کے نکالنے جانے یا اُس سے انتقام لیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے سخت تر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں مصری فوج کی جانب سے تمام عناصر کی شرکت کو یقینی بنانے کی امریکہ کو دی گئی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اس سے پہلے صدر مرسی کی اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین نے فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے عمل کے خلاف ’پرامن‘ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔
اخوان المسلمین کی جانب سے جدوجہد جاری رکھنے کا بیان جماعت کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ کے اجراء کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
مصر میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور گذشتہ پیر کو ایسے ہی واقعات میں محمد مرسی کے پچاس حامی مارے گئے تھے۔
اخوان المسلمین کی جانب سے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آئینی جمہوریت کے خلاف فوج کی خونی بغاوت کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ عوام کی پرامن اور مقبول خواہش طاقت اور تشدد پر فتح حاصل کرے گی۔‘
مصرکی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو گرفتار کرنے کے بعد ’محفوظ مقام‘ پر رکھا گیا ہے۔
مصر میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعطی نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں بتایا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر مرسی کہاں ہیں لیکن صدر مرسی کو ’بہت باعزت طریقے‘ سے رکھا گیا ہے۔
مصر میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پراسیکیوٹرز نے اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ محمد بدیع پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پیر کو قاہرہ میں لوگوں کو تشدد پر اکسایا جس میں 51 افراد مارے گئے۔
یاد ہرے کہ اس پیش رفت سے پہلے امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ مصر میں جاری کشیدگی کے باوجود بھی دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ مصر کو ایف سولہ لڑاکا طیارے دے گا۔
فوج کی جانب سے صدر مرسی کی حکومت برطرف کرنے کے بعد سے امریکہ کا موقف تھا کہ وہ فوج کے اس اقدام کا ابھی جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی قوانین کے مطابق مصر میں حکومت کی برطرفی کو ’بغاوت‘ قرار دینے پر مصر کو ملنے والی فوجی امداد بند ہو جائے گی۔







