لبنان: سیدون میں جھڑپیں، بارہ فوجی ہلاک

فوج نے اس تشدد کے لیے شیخ احمد العصیر کے حامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے
،تصویر کا کیپشنفوج نے اس تشدد کے لیے شیخ احمد العصیر کے حامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے

لبنان کے شہر سیدون میں ایک سنّی عالم کے حامی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم بارہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپیں اتوار کو اس وقت شروع ہوئیں جب ایک سخت گير سنّی عالم کے کچھ حامیوں نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد سرکاری فورسز نے عالم کے حامیوں کو گھیرنے کی کوشش کی اور اس کے بعد ہونے والی جھڑپیں اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی جاری رہیں۔

فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’سیدون کی خاموش فضا میں آگ لگانے کے لیے فوج پر بڑی بے رحمی سے حملہ کیا گيا ہے۔‘

شعیہ تحریک حزب اللہ نے جب سے پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگي میں صدر بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کیا ہے تب سے لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دارالحکومت بیروت سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر سیدون میں راکٹ حملے اور مشین گنوں کی فائرنگ سے لرز اٹھا اور رہائشی خوفزدہ ہیں۔

فوج نے اس تشدد کے لیے سنی عالم شیخ احمد العصیر کے حامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے شام کے حوالے سے شعیہ اور سني جنگوؤں کے درمیان جھڑپوں کے بعد سے ہی سیدون میں کشیدگی پائی جاتی تھی جسے لبنانی حکام کم کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔

جھڑپوں کے سبب فضاء میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے
،تصویر کا کیپشنجھڑپوں کے سبب فضاء میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے

لبنان کے سنّی گروپ شام میں اسد حکومت کے خلاف بر سرپیکار باغیوں کے حامی ہیں جبکہ شعیہ تحریک حزب اللہ اسد حکومت کی حامی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتوار کے روز تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس نے ایک چیک پوسٹ پر شیخ احمد کے ایک حامی کو گرفتار کیا۔

اس کے جواب میں شیخ کے دوسرے حامیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کر دیا اور ملک بھر میں اپنے حامیوں کو سڑکوں پر نکلنے کو کہا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں تقریباً چالیس فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ان جھڑپوں کے سبب اتوار کی شام کو شہر کے کئي علاقوں سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گيا۔ اس صورت حال میں متاثرہ علاقے کے لوگوں نے حکام سے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کو کہا۔

پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگي کی وجہ سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر لبنان کی پارلیمان نے انتخابات موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو جون میں ہونے تھے۔