،تصویر کا کیپشندو سال قبل شام میں مسلح تصادم کے شروع ہونے کے بعد سے پانچ لاکھ مہاجرین ہمسایہ ملک لبنان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنان مہاجرین میں تقریباً آدھی تعداد بچوں کی ہے۔ میگنم فوٹوگرافر موئسز ثمن نے چند نوجوان مہاجرین سے ملاقات کی جو شام سے ہجرت کر کے لبنان آئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسات سالہ حصام اور ان کے پانچ سالہ بھائی وسیم لبنان کی بقاع وادی میں ایک ٹینٹ میں رہ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندیگر خاندان زیر تعمیر عمارتوں میں عارضی مکان بنا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ مارچ کے آخر تک چار لاکھ شامی مہاجرین کو یا تو رجسٹر کر لیا گیا ہے یا پھر ان کو رجسٹر کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے لبنان پر سماجی اور معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلبنان کے وزیر داخلہ مروان شربل کا کہنا ہے کہ لبنان میں شامی مہاجرین کی اصل تعداد دس لاکھ ہے۔ لبنان کی کُل آبادی چالیس لاکھ ہے۔
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ نے ان مہاجرین کی مدد کے لیے تاریخ کی سب سے زیادہ رقم کی اپیل کی ہے۔
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ اس سال اضافی چار ارب ڈالر مانگ رہا ہے کیونکہ اس کو خدشہ ہے کہ مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔