شام کی جنگ لبنان میں، باغیوں اور حزب اللہ میں جھڑپیں

شامی باغیوں نے حکومتی فوج کے ساتھ تعاون پر حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا
،تصویر کا کیپشنشامی باغیوں نے حکومتی فوج کے ساتھ تعاون پر حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا

لبنان کے سرحدی علاقے میں لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ اور شامی حکومت کے مخالف باغیوں کے مابین جھڑپوں کے بعد خلیجی عرب ممالک نے حزب اللہ کی خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

لبنان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شام کی سرحد سے متصل لبنان کے سرحدی علاقے بلبک میں ہونے والی ان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان جھڑپوں کے بعد بحرین کے نائب وزیرِ خارجہ غنیم البنین نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ شامی صدر الاسد کی فوج کی مسلح حمایت جاری رکھتی ہے تو خلیج تعاون کونسل کے چھ ارکان اس کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

غنیم البنین نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل شام کے تنازع میں حزب اللہ کی شمولیت کو ’فرقہ وارانہ مداخلت‘ سمجھتی ہے لیکن اس نے تنظیم کو ایک دہشتگرد گروہ قرار دینے پر بات نہیں کی۔ بحرین کی حکومت نے گزشتہ ہفتے حزب اللہ کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ (خلیج تعاون کونسل کی) وزارتی کونسل شام میں حزب اللہ کی جارحانہ مداخلت کی مذمت کرتی ہے اور اس نے تعاون کونسل کے رکن ممالک میں حزب اللہ کی مفادات کے خلاف کارروائی پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم بحرینی وزیر نے ان مفادات کی نشاندہی نہیں کی۔ خلیج تعاون کونسل میں بحرین کے علاوہ سعودی عرب، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

عرب لیگ اور امریکہ نے بھی حزب اللہ پر زور دیا ہے کہ وہ شام سے اپنے جنگجوؤں کو واپس بلا لے جبکہ فرانس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حزب اللہ کے چار ہزار جنگجو شام میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے شانہ بشانہ جنگ میں مصروف ہیں۔

حزب اللہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں حکومت کا ساتھ تو دے رہی ہے لیکن اس سے پہلے ابھی تک یہ لڑائی لبنانی سرحد میں داخل نہیں ہوئی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لبنانی سکیورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلبک کی لڑائی میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لبنان میں حزب اللہ شیعہ مسلمانوں کی ایک انتہائی طاقتور سیاسی اور فوجی تنظیم خیال کی جاتی ہے
،تصویر کا کیپشنلبنان میں حزب اللہ شیعہ مسلمانوں کی ایک انتہائی طاقتور سیاسی اور فوجی تنظیم خیال کی جاتی ہے

لبنان کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ لڑائی باغیوں کی جانب سے راکٹ داغنے کی وجہ سے شروع ہوئی اور سنیچر سے اب تک باغیوں نے لبنانی سرحد کے اندر کئی راکٹ فائر کیے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی باغیوں نے حکومتی فورسز کے ساتھ تعاون پر حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ شام کےسرحدی علاقے قُصیر کو محصور کرنے میں بھی حزب اللہ کے جنگجو شامل ہیں۔

خیال رہے کہ لبنان میں حزب اللہ شیعہ مسلمانوں کی ایک انتہائی طاقتور سیاسی اور فوجی تنظیم خیال کی جاتی ہے۔

قصیر میں رسائی کی اپیل

شام میں حزبِ مخالف کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ قصیر میں اب بھی 30,000 کے قریب عام شہری موجود ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب عالمی امدادی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے شام کے محصور شہر قصیر کی صورتحال پر تتشویش کا اظہار کیا ہے اور شہر میں داخلے کی اجازت کی اپیل جاری کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے حکومتی فورسز اور باغیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محصور افراد کو شہر سے باہر نکلنے دیں۔

جنیوا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور آئی سی آر سی دونوں نے ایک ہی وقت میں شام کے شہر قصیر میں فوری داخلے کی اپیل کی ہے جس سے قصیر کی خراب صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ابھی تک یہ لڑائی لبنانی سرحد میں داخل نہیں ہوئی تھی
،تصویر کا کیپشنابھی تک یہ لڑائی لبنانی سرحد میں داخل نہیں ہوئی تھی

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قصیر کی ’تشویشناک حالت‘ کے بارے میں پیش کی جانے والے ایک قرارداد کو روک دیا ہے۔

روس کے ایک سفارت کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے اس قرار کی مخالفت اس لیے کی کیونکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ قصیر پر شام کی حزب مخالف نے کب قبضہ کیا تھا؟

گزشتہ ماہ قصیر میں جاری لڑائی میں حزب اللہ کی شمولیت کے بعد تیزی آ گئی تھی۔

لبنان سے ملحق شام کا شہر قصیر 30 ہزار آبادی پر مشتمل ہے اور عسکری لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اس پر کنٹرول سے حکومت کو دارالحکومت سے ساحل تک رسائی ملتی ہے جبکہ باغیوں کے لیے اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے انھیں لبنان آنے جانے کا راستہ مل جاتا ہے۔