’قصیر میں خوراک کی کمی، فوری رسائی دی جائے‘

عالمی امدادی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے شام کے شہر قصیر میں داخلے کی اجازت دیے جانے کی اپیل جاری کی ہے۔
لبنان اور شام کی سرحد کے قریب واقع قصیر میں دو ہفتے سے شام کی سرکاری فوج کا آپریشن جاری ہے۔
اس آپریشن کی وجہ سے وہاں کے ہزاروں رہائشیوں کو خوراک، پانی اور ادویات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے فریقین سے علاقے میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ لڑائی میں پھنسے شہریوں کو نکلنے کا موقع دیا جائے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ شامی افواج اور باغی دونوں کو لڑائی میں شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
شام کی حزب مخالف کے ایک رکن نے جمعہ کو بی بی سی کو بتایا قصیر میں اب بھی 30,000 کے قریب عام شہری موجود ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قصیر میں پھنسے شہریوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہے اور وہ وہاں فوری داخلے اور امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
آئی سی آر سی کے سربراہ رابرٹ مردینی کا کہنا ہے کہ قصیر میں جاری لڑائی کے باعث عام شہری اور زخمی افراد لڑائی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنیوا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور آئی سی آر سی دونوں نے ایک ہی وقت میں شام کے شہر قصیر میں فوری داخلے کی اپیل کی ہے جس سے قصیر کی خراب صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قصیر کی ’تشویناک حالت‘ کے بارے میں پیش کی جانے والے ایک قرار کو روک دیا ہے۔
روس کے ایک سفارت کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے اس قرار کی مخالفت اس لیے کی کیونکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ قصیر پر شام کی حزب مخالف نے کب قبضہ کیا تھا؟
لبنان سے ملحق شام کا شہر قصیر 30 ہزار آبادی پر مشتمل ہے اور عسکری لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر کنٹرول سے حکومت کو دارالحکومت سے ساحل تک رسائی ملتی ہے جبکہ باغیوں کے لیے اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے انھیں لبنان آنے جانے کا راستہ مل جاتا ہے۔







