’شام کی قومی حزبِ اختلاف ناکام ہو گئی ہے‘

شام میں باغیوں کی تنظیم شامی انقلابی تحریک نے ملک سے باہر شام کی متحدہ قومی حزبِ اختلاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک میں انقلاب کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بات شامی انقلابی تحریک کی طرف سے جاری ایک بیان میں ایک ایسے وقت میں کہی گئی ہے جب روس اور امریکہ شام کے معاملے پر جون میں ایک کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں کر رہے ہیں۔
شام میں موجود باغیوں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کی قومی حزبِ اختلاف پر خطے اور بین الاقوامی قوتوں کا اثر بڑھ گیا ہے اور وہ اپنے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی حزبِ اختلاف میں کم از کم پچاس فیصد ’انقلابی قوتوں‘ کی نمائندگی ہونی چاہیے۔
دوسری طرف شامی بحران پر بحث کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بدھ کو جینوا میں ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک شام کے القصير شہر میں جاری تصادم میں بیرونی جنگجوؤں کی شمولیت کی مذمت کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے پر غور کریں گے۔
خیال رہے کہ شامی جنگ میں طرفین کو مسلح کرنے کے سوال پر عالمی برادری منقسم ہے۔
شام میں دو برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور روس کی مشترکہ کوششیں بھی تنازعات کا شکار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس کے علاوہ ان کوششوں کو خاطر میں اس لیے بھی نہیں لایا گیا کیونکہ شام کے باغی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ اس کے لیے ہونے والی کسی قسم کی کانفرنس میں ان کی نمائندگی کون کریگا۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل بدھ کو ایک ڈرافٹ قرارداد پیش کررہی ہے جس میں القصير کے مصحور شہر میں ’بیرونی جنگجوؤں‘ کی شرکت کی مذمت شامل ہے۔ قرارداد میں اس مطالبے کا بھی امکان ہے کہ اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں کو وہاں فوری رسائی فراہم کی جائے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر نوی پلّے نے متنبہ کیا ہے کہ شام میں تشدد ’خوفناک صورت‘ اختیار کر چکا ہے۔
جینوا میں بی بی سی کی ایموگن فولکس کا کہنا ہے کہ درحقیقت قطر نے امریکہ اور ترکی کے ساتھ مل کر اس قرارداد کو تیار کیا ہے جس میں شام پر گہرے اختلافات نظر آتے ہیں۔
’بیرونی جنگجوؤں‘ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق لبنان کی جماعت حزب اللہ سے ہے اور یہ کہ وہ شام کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں جبکہ قطر شامی حزبِ اختلاف کی حمایت کرتا ہے اور ان میں چند ’بیرونی جنگجو‘ بھی شامل ہیں۔
دریں اثناء ایران کے مقامی میڈیا میں ایرانی حکام کے اس بیان کو نقل کیا گیا ہے کہ 40 ممالک کے مندوبین اور بعض ’مہمانانِ خصوصی‘ ایرانی دارالحکومت تہران میں شام کے دوستوں کی میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔
ادھر شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت کرنے والے ملک روس نے کہا ہے کہ وہ شام کو ایس- 300 طیارہ شکن میزائل فراہم کرے گا اور یہ کہ اس سے بیرونی مداخلت کو روکنے میں مدد ملے گی۔







