شام کے خلاف اسلحے کی پابندی پر بات چیت

برطانیہ اور فرانس شامی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے حامی ہیں
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ اور فرانس شامی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے حامی ہیں

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ شامی باغیوں کو ہتھیار دینے کے لیے شام پر عائد اسلحے کی پابندی ختم کرنے کے معاملے پر برسلز میں بات چیت کر رہے ہیں۔

برطانیہ اور فرانس نے اسلحے کی فراہمی پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شام کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

تاہم بعض یورپی ممالک اس پابندی کے خاتمے کے خلاف ہیں جس کی مدت 31 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہو رہا ہے جب روس، امریکہ اور فرانس جنیوا میں آئندہ ماہ منعقد ہونے والی اس امن کانفرنس میں شرکت کے لیے شامی حزبِ اختلاف پر زور دے رہیں ہیں جس میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

شام کے وزیرِ خارجہ نے اتوار کو اس اجلاس میں ’اصولی طور پر شرکت‘ کی تصدیق کی تھی۔ شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد کے ارکان ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے اجلاس میں کانفرنس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے پیر کی شام تک کا وقت ہے کیونکہ اس کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری پیرس میں اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

پیر کو یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے لیے آمد کے موقع پر متعدد وزراء اور یورپی یونین کے امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کو موقع دینا کلیدی ہوگا۔

ان کا کہنا تھا ’ہم اسلحے کی پابندی کے معاملے پر بات کریں گے۔ ہم بات کریں گے کہ اس مسئلے کا سیاسی حل کیسے مل سکتا ہے اور اس کے لیے ہم زمینی حقائق اور تمام امور پر نظر ڈالیں گے تاکہ ایک راستہ تلاش کیا جا سکے۔ ہم شام کی حزب مخالف کے تمام لوگوں سے رابطے میں ہیں اور یورپی یونین کے ممبر ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل کے لیے راستہ تلاش کریں۔‘

اس موقع پر برطانوی سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جنیوا کانفرنس کا حامی ہے کیونکہ آخرِ کار صرف سیاسی اور سفارتی مدد سے نکالا جانے والا صحیح ہوگا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام کے خلاف یورپی یونین کی طرف سے اسلحے کی پابندی کو نرم کر کے شامی باغیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کا عمل ’سفارتی کوششوں میں مدد دے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح باغی شامی صدر بشارالاسد کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک بہتر پوزیشن میں آجائیں گے اور شامی حکومت کو ’واضح اشارہ دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہونا ہوگا۔‘

ادھر جمہوریہ چیک، فن لینڈ، سویڈن اور نیدرلینڈ کے ہمراہ شام کے خلاف اسلحے کی پابندی ختم کرنے کے مخالف ملک آسٹریا کے وزیرِ خارجہ مائیکل سپنڈیلیگر نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین کو ایک پرامن کمیونٹی رہنا چاہیے اور اس قسم کے تنازع میں نہیں الجھنا چاہیے۔‘

ان یورپی ممالک کو خوف ہے کہ شامی گروپوں کو اعتدال پسند سمجھ کر جہاز شکن اور ٹینک شکن اسلحہ دیا گیا تو یہ کہیں النصرت فرنٹ جیسے جہادیوں کے ہاتھوں نہ لگ جائے جو القاعدہ کا حامی ہے۔

اس معاملے میں ایک اور امکان یہ ہے کہ شام کے خلاف 31 مئی کو ختم ہونے والی موجودہ پابندی کو بغیر کسی ترمیم کے دوبارہ عائد کیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ جنیوا میں ہونے والی کانفرنس کامیاب رہتی ہے کہ نہیں۔