شامی فوج کا باغیوں کے گڑھ قصیر پر حملہ

شام کے سرکاری ٹیلی وژن کا مطابق حکومتی فورسز نے باغیوں کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے قصیر کا کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
شام میں باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز کے فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لبنان سے تعلق رکھنے والے سنُی شدت پسند لڑائی میں باغیوں کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ حزب مخالف کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز کے ساتھ لڑائی میں لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے جنگجو بھی شامل ہیں۔
شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔
شام کے مسئلے پر امریکہ اور روس کی جانب سے امن کانفرنس کے اعلان کے بعد صدر بشار الاسد نے ارجنٹائن کے اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کانفرنس میں دہشت گردوں کو ہتھیاروں اور رقم کی فراہمی روکنے پر غور کیا جائے گا۔
انھوں نے اقتدار سے علیحدگی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کپتان کبھی بھی جہاز نہیں چھوڑتا اور آئندہ سال ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہی اُن کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔
گزشتہ کئی دونوں سے سرحدی علاقے قصیر میں باغی محصور ہیں اور دونوں اطراف سے شدید لڑائی جاری ہے۔ سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ آج صبح شدید بمباری ہو رہی ہے۔
بیروت میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ قصیر کے علاقے میں حکومت اور باغیوں دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت کو قصیر میں دوبارہ قبضہ ملنے سےساحلی علاقے اور دارالحکومت دمشق کے راستوں پر کنٹرول مل سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے حکومتی فورسز کی جانب سے قصیر کے علاقے میں پمفلیٹ کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پمفلیٹ میں باغیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ہتھیار نہ ڈالنے پر وہ حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔







