شامی باغیوں پر اسلحے کی پابندی ختم

شامی حزبِ مخالف فری سیریئن آرمی کا ایک جنگجو تربیتی مشقوں سے گزرتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنشامی حزبِ مخالف فری سیریئن آرمی کا ایک جنگجو تربیتی مشقوں سے گزرتے ہوئے

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شامی حزبِ مخالف پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کی تجدید نہ کی جائے۔

تاہم برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ شامی باغیوں کو ’اسلحہ مہیا کرنے کا فوری فیصلہ ابھی نہیں ہوا،‘ اور بقیہ تمام پابندیاں اب بھی برقرار رہیں گی۔

یہ فیصلہ برسلز میں طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پابندیوں کے پیکیج کی میعاد یکم جون کو ختم ہو رہی ہے۔

برطانیہ اور فرانس بشار الاسد کے ان مخالفین کو اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جنھیں وہ معتدل کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے شامی حکومت کو دو سالہ تنازعے کے سیاسی حل پر مائل کیا جا سکے گا۔

ولیم ہیگ نے برسلز مذاکرات میں کیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ’یورپ کے لیے بشارالاسد کو واضح پیغام بھیجنا ضروری ہے کہ اسے (حزبِ مخالف سے) سنجیدگی سے بات چیت کرنی چاہیے، اور یہ کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر تمام راستے کھلے ہیں۔‘

البتہ دوسرے ملک اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے فقط تشدد کو ہوا ملے گی جس میں پہلے ہی 80 ہزار شامی باشندے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے ایک اخباری کانفرنس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ رکن ممالک اس مرحلے پر اب سے ممنوع ساز و سامان فراہم کرنا شروع نہیں کر دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی کونسل یکم اگست تک شام میں تنازع ختم کرنے میں ہونے والی نئی پیش رفت کی روشنی میں اس صورتِ حال پر غور کرے گی، جس میں روس کی امن کے لیے پیش قدمی شامل ہے۔

حالیہ پابندی ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کو متفقہ فیصلے پر پہنچنا ضروری تھا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انفرادی ملکوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ شام میں اسلحہ بھیجنے کے بارے میں ان کے اپنے قواعد کیا ہیں۔

یورپی یونین کی پابندی مئی 2011 میں نافذ کی گئی تھی، اور اس کا اطلاق باغیوں اور شامی حکومت دونوں پر ہوتا ہے۔

تاہم اس سال فروری میں وزرائے خارجہ اس بات پر راضی ہو گئے تھے کہ رکن ممالک کو ’شہریوں کے تحفظ‘ کے لیے غیرمہلک فوجی ساز و سامان دینے کا اہل بنا دیا جائے۔

اس موقعے پر ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یورپی یونین شامی حزبِ اختلاف کو شامی عوام کا جائز نمائندہ سمجھتی ہے۔‘