حزب اللہ کے جنگجو شام میں دراندازی کر رہے ہیں

شامی حکومت مخالف تنظیم فری سیرین آرمی کے ایک رہنما نے الزام لگایا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں دراندازی کر رہے ہیں۔
جنرل سلیم ادریس نے یہ بات بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران کہی۔
جنرل ادریس نے درخواست کی کہ ’ہمارے شہریوں کے دفاع‘ کے لیے مزید اسلحہ فراہم کیا جائے۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے قصیر پر حکومتی حملے اور جنگ میں غیرملکی جنگجوؤں کے ملوث ہونے کی مذمت کی ہے۔
جنرل ادریس نے بی بی سی کی ورلڈ سروس کے پروگرام ’نیوز آور‘ میں بڑے جذباتی انداز میں مغربی طاقتوں سے استدعا کی: ’ہم مر رہے ہیں۔ برائے مہربانی آ کر ہمیں بچا لو۔‘
انھوں نے کہا کہ فری سیرین آرمی قصیر کی جنگ میں صرف ڈیڑھ ہزار جنگجو استعمال کر رہی ہے، جن کے پاس صرف ہلکا اسلحہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ قصبے میں 50 ہزار سے زائد شہری پھنسے ہوئے ہیں، اور اگر یہ سرکاری فوج کے ہتھے چڑھ گیا تو ’قتلِ عام‘ شروع ہو جائے گا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں یہ اطلاع ملی ہے کہ ایرانی جنگجو بھی اس حملے میں حصہ لے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے حکومت مخالف گروہوں میں جہادیوں کی موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان کی تعداد پانچ تا آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور میڈیا نے انھیں ضرورت سے زیادہ کوریج دی ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ جہادیوں کے نظریات سے متفق نہیں ہیں، وہ کسی کو صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے سے روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا، ’جب آپ ہمیں اسلحہ اور گولہ بارود دیں گے تو ہم ہر قسم کی ضمانت دیں گے کہ یہ ہتھیار درست ہاتھوں ہی میں رہیں۔‘
جنرل ادریس نے جلاوطن شامی حزبِ اختلاف سے مطالبہ کیا کہ وہ اندرونی چپقلش بند کر دیں اور فوری طور پر اگلے ماہ جنیوا میں ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کریں۔







