روس شام کو اسلحہ نہ دے: امریکہ، جرمنی

امریکہ اور جرمنی نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی فوج کو جدید میزائل سسٹم مہیا نہ کرے کیونکہ اس کی وجہ سے وہاں جاری تنازع طول پکڑ لے گا۔
امریکی وزیرِخارجہ جان کیری نے کہا کہ روسی اسلحے کا ’انتہائی منفی اثر‘ ہو گا اور اس سے اسرائیل کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔
جرمن وزیرِخارجہ گیدو ویسٹرویلے نے روس پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
ادھر شام میں جمعے کو بھی قصیر قصبے میں شدید لڑائی جاری رہی۔
درجنوں حکومت مخالف لڑاکا جمعے کو حکومتی افواج اور حزب اللہ کے جنگ جوؤں کے ساتھ لڑنے کے لیے قصیر پہنچے۔
ایک حکومت مخالف کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ قصبے میں آٹھ سو زخمی افراد کو علاج کی ضرورت ہے۔
کیری اور ویسٹرویلے نے اس کے ایک روز بعد واشنگٹن میں ملاقات کی جب شامی صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ روس شام کو زمین سے فضا میں مار کرنے والا S-300 دفاعی میزائل سسٹم فراہم کرے گا۔ تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
S-300 میزائل سسٹم بہت اہل دفاعی نظام ہے اور یہ جہازوں کے علاوہ بیلیسٹک میزائلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کو دو روسی اخباروں نے دفاعی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ نظام اس سال شام کے سپرد کر دیا جائے گا۔
جان کیری نے روس پر زور دیا کہ وہ بشارالاسد کی حکومت کو اسلحہ فراہم کر کے خطے میں طاقت کے توازن میں خلل نہ ڈالے، چاہے یہ کسی پرانے معاہدے کے تحت ہی کیوں نہ ہو۔
انھوں نے کہا، ’اس سے خطے کے توازن پر انتہائی منفی اثر پڑے گا اور اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
’ہمیں امید ہے کہ وہ امن کے عمل کو کام کرنے کا موقع دینے کے لیے اس سے باز رہیں گے۔‘
امریکی وزیرِخارجہ نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ شامی حزبِ اختلاف اگلے ماہ جنیوا میں امریکی اور روسی پشت پناہی میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لے گی۔ روسی اور امریکی حکام اگلے ہفتے ملاقات کر کے امن کانفرنس کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ کانفرنس میں مربوط طریقے سے شرکت کرنے کے لیے حزبِ اختلاف کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے برعکس شامی حکومت متحد اور پراعتماد ہے۔
صدر اسد نے جمعرات کو کہا تھا کہ اگر کانفرنس میں ناقابلِ قبول شرائط نہ ہوئیں تو شام ’اصولی طور پر‘ کانفرنس میں شرکت کرے گا۔







