سرکاری فوج کا قصیر پر دوبارہ قبضہ

قصیر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشام کے شہر قصیر میں جاری جنگ میں حزب اللہ کے جنگجو بڑی تعداد میں شامل ہیں

شام کے سرکاری ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فوج نے قصیر شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اس دعوے کی تصدیق کے لیے فوری طور پر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے تاہم حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار نے بھی اسی قسم کی خبریں پیش کی ہیں۔

ادھر شام میں مختلف باغی جنگجو گروہوں کے فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ ان کے فوجی پڑوسی ملک لبنان میں حزب اللہ سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ حزب اللہ شیعہ مسلک کا حامل لبنان کا جنگجو گروپ ہے۔

آزاد شامی فوج کے سربراہ جنرل سالم ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ حزب اللہ کے جنگجو شام پر حملہ آور ہیں اور لبنان ان کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہا ہے۔

جنرل ادریس نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے بعد والے شام میں باغی صدر بشارالاسد کے کسی کردار کو قبول نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا: ’اگر امن کی قیمت یہ ہے کہ بشار کو شام میں اقتدار حاصل رہے تو ہمیں ایسے امن کی ضرورت نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے قصیر کے جنگجوؤں سمیت اپنے کمانڈروں کو یہ حکم دے دیا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے صرف شام کے اندر لڑیں۔

لیکن اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’شام میں، قصیر میں، ادلیب میں، حلب میں، دمشق میں یہاں تک کہ پورے ملک میں حزب اللہ کے جنگ جو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

’حزب اللہ کے جنگجو شام کے خطے پر حملہ آور ہیں اور اگر وہ ایسا ہی کرتے رہے اور لبنان کی حکومت نے انھیں شام آنے سے روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی تو میرے خیال میں ہمیں حزب اللہ جنگجوؤں سے ان کے خطے (لنبان) میں لڑنے کی اجازت ہے۔‘

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سرکاری فوج کے ہمراہ حزب اللہ کے جنگجو شہر قصیر کے کنٹرول کے لیے باغیوں سے لڑتے رہے ہیں۔

شام کا یہ شہر لبنان کی سرحد اور رسد کے اہم راستے سے صرف دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

درین اثنا بدھ کو شام کی سرکاری ٹی وی نے کہا: ’ہماری بہادر مسلح فوج نے قصیر میں امن و امان بحال کر دیا ہے۔‘

المنار ٹی وی نے’باغیوں کی وسیع تباہی‘ کی خبر دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم موئیر کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز منگل کو رضاکاروں نے مسلسل بمباری اور تصادم کی خبر دی تھی اور باغیوں میں سے صرف تین افراد کی ہلاکت کی بات کہی تھی۔

بہر حال جنرل ادریس نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کے خلاف انھیں باغیوں کی فتح کا یقین ہے۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق سنہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری جنگ میں 80 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جبکہ 15 لاکھ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔