مشعل سے انکار: درد کا رشتہ یافریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے معروف فٹ بال کھلاڑی وائچونگ بھوٹیا نے اپنے ضمیر کی آواز پر اولمپکس مشعل کی دوڑ میں حصہ لینے سے انکار کرد یا۔ اس کے ساتھ ہی بیجنگ اولمپکس کی مخالفت کو لیکر بحث شروع ہوگئی۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ کسی بھی مہذب ملک کو اس ملک میں کھیلنے کی کیا ضرورت آن پڑی ہے جو بے قصور بدھ مذہب کے پیروکاروں کی’ آزادی‘ کی خواہش کو کچل دیتاہے۔ بائیکاٹ ، اپنا غصہ اور مخالفت درج کرانے کے لیے ایک ہتھیار ہے اور اس کا پہلے بھی استعمال ہوچکا ہے۔ سنہ 1980 میں امریکہ نے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ جاپان، مغربی جرمنی، چین اور کناڈا نے بھی اس اولمپکس میں حصہ نہيں لیا تھا۔ وجہ تھی سنہ 1979 میں افغانستان پر سویت یونین کا حملہ۔ اس پر سویت یونین کا جواب چار سال بعد آیا۔ جب اس کے ساتھ ساتھ ایسٹرن بلاک کے کئی ممالک نے لاس اینجیلس اولمپکس کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن اینٹ کا جواب پھتر سے دینے کی روایت یہ یا کہيں کہ مخالفت کرنے کا یہ طریقہ اس وقت ختم ہوگیا جب زیادہ تر ممالک نے یہ سمجھ لیا کہ اولمپکس کھیل کے بائیکاٹ کا یہ طریقہ دونوں فریقین پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ دو دہائیوں سے بھی زیادہ وقت گزنے کے بعد ایک بار پھر ہمارے سامنے وہی خطرہ کھڑا ہو گيا ہے۔ حالانکہ ابھی تک مخالفت صرف مشعل دورڑ تک ہی محددو ہے۔ لیکن آہستہ زبان میں ہی صحیح، لیکن یہ آواز سامنے آرہی ہيں کہ پورے کھیل کی مخالفت کی جائے اور چین کو یہ بتا دیا جائے کہ اس کی شان و شوکت کو صرف عدم تشدد پر مبنی مخالفت سے ہی چیلنج نہيں کیا جائے گا۔ کرکٹ کھلاڑیوں کے علاوہ وائچونگ بھوٹیا ہندوستان کے مشہور کھلاڑیوں میں سے ایک ہيں۔ انہوں نے اپنے وقار کی قربانی دیکر ہندوستانیوں کو یہ بتانے کی کوشش کی وہ چینی حکام کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن ہندوستان کے رخ سے یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ بھوٹیا کے لیے جتنا یہ عام معاملہ ہے، ایک حکومت کے لیے اتنا نہیں۔ اس معاملے پر سریش کلماڈی کا بیان فورا آیا اور وہ بھی بالکل واضح۔ ہو سکتا ہےکہ کلماڈی ہندوستان حکومت کی نمائندگی نہيں کرتے ہوں، لیکن ہندوستانی اولمپکس ایسوسی ایشن کے سربراہ کے طور پر ان کا بیان اہمیت کا حامل تو ہے ہی۔
کلماڈی نے کہا تھا کہ ہم سنہ 2010 میں دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کرنے جارہے ہيں، اس وقت کیا ہوگا؟ اگر کچھ ممالک کشمیر میں ہمارے انسانی حقوق کی پامالی کی مثال دے کر کھیل کا بائیکاٹ کرنا چاہیں تو؟ میں جانتا ہوں کہ ہندوستان میں کئی لوگ ایسے ہیں جو اس بیان کا مذاق اڑائیں گے، اور یہ بھی کہیں گے کہ لہاسہ اور تبت کے مسائل کا مقابلہ کشمیر سے نہیں کی جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ کہیں گے کہ ہندوستان کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کو بربریت آمیز ڈھنگ سے نہیں کچل رہا ہے۔ اگر گزشتہ دو دہائیوں میں جہاں ایک لاکھ سے زیادہ عوام مارے جاچکے ہيں۔ اور جہاں سرکاری مظالم کے خلاف ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترآتے ہيں، کئی لوگوں کے لیے کشمیر تبت مسئلہ سے کم نہیں ہے۔ کمشیر کے باہر بھی ہندوستان کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔ گجرات میں سرکاری تحفظ میں مسلونوں کا قتل عام، شمال مشرقی ریاستوں میں انسانی حقوق کی پامالی اور قبائیلوں کے خلاف کاروائی سبھی کو پتہ ہے۔ اور اگر بعض ملک ہندوستان میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں کا بائیکاٹ کرے، توہم اسے غلط نہيں ٹھہرا سکتے، آپ یہ کیوں خيال کرتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ بائیکاٹ کے بارے میں گمان بھی نہيں کرسکتے؟ عراق پر حملہ کرنے اور قریب چار لاکھ عوام کے خون سے آلودہ ہاتھ کے بعد اس کے پاس کیا یہ اخلاقی طاقت ہے کہ وہ اولمپکس کھیل کے بائیکاٹ کی بات کرے۔ سنہ 2012 میں لندن میں اولمپکس کے سامنے بھی اسی طرح کے مسائل آسکتے ہیں۔ امریکہ بھی 2016 کے اولمپکس کی میزبانی حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور میزبان کا نام طے ہوجانے کے بعد عراق جنگ اسے بھی پریشان کرسکتی ہے۔ اس کھیل میں کوئي بھی سنت ( بےگناہ) نہیں ہے اور ہم سے زیادہ تر پاپی (گناہگار) ہيں، ایسا انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ سے بھی پتہ چلتا ہے۔ اس فہرست میں صرف پانچ ایسے ممالک ہيں جن کے خلاف انسانی حقوق کے پامالی کا معاملہ نہ کر برابر ہے۔
اس کے علاوہ اس کا ایک تجارتی پہلو بھی ہے۔ جس کی کو ئی بھی بات نہیں کر رہا ہے۔ بین الاقوامی اولمپکس تنظیم (آئی او سی) ایک اہم موضوع اٹھا رہی ہے، جبکہ وہ ان سبھی رہنماؤں کو فریبی قرار دیتی ہے جو چین کے ساتھ تجارت کرنے سے خوش ہيں لیکن اولمپکس کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہيں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہین وربرگین نے کئی لوگوں کے جذبات کو آواز دی ہے۔ انہوں نے کہا۔’ان رہنماؤں کے لیے میرے پاس کم ہی عقیدت ہے جو چین میں جاری بڑے تجارتی معاہدے کرتے ہيں اور تین چار مہینے کے بعد یہ کہتے ہيں کہ وہ اولمپکس کھیلوں کے افتتاح میں نہیں آسکتے ہيں۔‘ آئی او سی نے آسٹریلیا کے قبائیلی باشندوں کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا حوالہ دیا اور بتایا ہے کہ کیسے 2000 میں سڈنی اولمپکس کے وقت اس معاملے کو جان بوجھ کر ہوا نہیں دی۔ اسپانسرز کے ساتھ بھی پیسے کا پہلو جڑا ہوا ہے، کیونکہ بیجنگ اولمپکس میں لاکھوں لاکھ ڈالر داؤ پر لگے ہيں۔ ایڈیڈیس، کوکاکولہ، میک ڈونلڈس، پیناسونک، سیمسنگ الیکٹرونکس لمیٹیڈ، سواچ گروپ، اے جی اولمپکس کھیلوں سے جڑنے کے لیے لاکھوں ڈالر دی رہی ہیں۔ ویسے یہ کمپنیاں ہیں، جو چین میں تجارت میں آگے آگے رہتی ہیں، اگر یہ چاہیں کہ وہ چین پر دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں کہ وہ تبت پر نرمی دکھائے کیوں کہ اگر کھیلوں کا بائیکاٹ ہوا توان کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔ ہندوستان میں فلم اداکار عامر خان کا کہنا ہے کہ ان کا دل تبت کے عوام کے لیے روتا ہے، لیکن وہ اولمپکس مشعل لیکر دوڑے گیں۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اولمپکس چین کا نہيں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ عامر خان کے کہنے کا ایک مطلب ہو، لیکن کوکاکولہ کے برانڈ سفیر ہونے کے بعد کیا ان کے پاس نہ کہنے کا متبادل بچا بھی تھا؟ ایک کھلاڑی کے نظیریے سے اس معاملے کے الگ پہلو بھی ہیں۔ امریکہ کے یوٹا ریاست کے رہنے والے ایتھلیٹ ہینری مارش کی مثال لیجیے، وہ چار بار اولمپکس میں لمبی دوری کی دورڑ کے ممقابلے میں حصلہ لے چکے ہیں۔ سنہ 1979 میں انہوں نے ماسکو میں ہوئے ایک مقابلے میں جیت حاصل کی۔ ہینری مارش کہتے ہيں، یہ میرے کیرئر کے سب سے اہم دور میں سے ایک تھا، میرے رونگٹے کھڑے ہوگیے تھے، یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ہمیں کھیل کو سیاست سے کیوں دور رکھنا چاہیے۔ لیکن آگلے برس ہی ماسکو اولمپکس کے بائیکاٹ کی وجہ سے ہینری مارش اس کھیل میں نہیں لے سکے۔ انہوں نے کہا تھا، وہ غلط تھا۔ بائیکاٹ کی وجہ سے جن لوگوں کو چوٹ پہنچی ہے وہ صرف ایتھلیٹ تھے۔ آٹھ سال بعد سویت یونین افغانستان سے واپس چلا گيا۔ لیکن بائیکاٹ کی وجہ نہیں بلکہ اس لیے کیونکہ وہ افغانستان باغیوں کو کچل نہيں سکا۔ اور صرف یاد تازہ کرنے کے لیے بتادیں کہ امریکہ نے ہی افغان باغیوں کو اقتصادی مدد دی تھی، ان میں سے کئی آج امریکہ کی ’دہشت گردوں‘ کی فہرست میں ہے۔
افریقی نژاد امریکی ایتھلیٹ ٹامی اسمیتھ اور جان کالورس 200 میٹر کی دورڑ میں پہلے نبمر پر آئے۔ انہوں نے بغیر جوتا پہنے تمغہ قبول کیا۔ انہوں نے سیاہ فام لوگوں میں غریبی کو اعلامتی طور پر پیش کرنے کے لیے کالی جورابیں پہنیں۔ اسمیتھ نے عالمی ریکارڈ توڑا تھا، انہوں نے سیاہ فام لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کالا مفلر بھی پہنا۔ کالورس نے کالے رنگ کے موتیوں کی ہار پہنا، انہوں نے ان لوگوں کے لیے پہنا تھا جو مار دئے جاتے ہيں اور کوئی ان کے لیے دعا بھی نہیں کرتا۔ اسمیتھ نے دائیں ہاتھ میں داستانا پہنا تھا تو کالورس نے بائیں ہاتھ میں ۔ اور جب امریکی قومی پرچم لہرایا گيا تو انہوں نے جھک کر سالام کیا۔ دوسرے دن اخباروں کے پہلے صفحہ پر یہ دونوں کھلاڑی سہ سرخیوں میں تھے۔ بعد میں اسمیتھ نے کہا تھا، میں اگر فاتح رہتا ہوں تو میں امریکی ہوں، لیکن جب میں کچھ برا کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ میں سیاہ فام ہوں۔ ہم سیاہ فام ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ امریکہ کی سیاہ فام آبادی یہ سمجھے ہم نے کیا ہے۔ بھلے اس طرح کی مخالفت کم ہو تی ہے، لیکن یہ ایسی مخالفت تب ہوتی ہے جو داغدار نہیں ہے اور جو کچھ متاثر رہے ہیں یا پھر انہوں نے متاثروں کا درد محسوس کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی ہورہا ہو، وہ فریب کے علاوہ کچھ نہيں۔ |
اسی بارے میں اولمپک مشعل چینی حکام کےسپرد30 March, 2008 | کھیل اولمپک بائیکاٹ کی اپیل مسترد29 March, 2008 | کھیل اعصام اولمپکس میں شرکت کے خواہشمند29 March, 2008 | کھیل پیرا گوئے نے عراق کو ہرا دیا25 August, 2004 | کھیل اولمپکس سے انڈیا کی مایوسی20 August, 2004 | کھیل اولمپکس اور مسلم خواتین13 August, 2004 | کھیل اولمپکس 2012 لندن میں ہونگے 06 July, 2005 | کھیل سخت سکیورٹی میں اولمپک کا آغاز 13 August, 2004 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||