BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 August, 2007, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاستداں ناکام، کھلاڑی کامیاب

انیس سو بانوے ورلڈ کپ
انیس سو بانوے کے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت کو پاکستانی کرکٹ کا نقطۂ عروج کہا جاتا ہے
پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ جہاں سیاست اور سیاستدان ناکام رہے ہیں وہاں کھیل اور کھلاڑی ملک کا وقار بلند کرنے میں کامیاب رہے۔

کھیلوں کے میدان میں شاندار کارکردگی کے تذ کروں کے بغیر پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ نامکمل ہے۔

سکواش کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پہلا تعارف کہا جاتا ہے اور ہاکی قومی کھیل کی شکل میں ہمیشہ اپنی موجودگی کا پتہ دیتی رہی ہے۔

کرکٹ کے بار ے میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے دلوں کے قریب ہے۔ ان تین کے علاوہ سنوکر وہ چوتھا کھیل ہے جس میں پاکستان عالمی فاتح بھی بنا۔

پاکستان نے ہاکی میں تین اولمپکس اور چار ورلڈ کپ ٹائٹلز جیتے ہیں۔

1960 کے روم اولمپکس میں نصیر بندہ کے گول کی بدولت گولڈ میڈل جیت کر پاکستان نے ہاکی کے میدان میں بھارت کی طویل بالادستی ختم کی۔ عبدالحمید حمیدی پاکستان کی اس اولین فاتح ٹیم کے کپتان تھے۔

1968کے میکسیکو اولمپکس میں طارق عزیز کی قیادت میں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر وکٹری سٹینڈ پر آئی۔

1984میں منظور جونیئر کی قیادت میں پاکستان نے تیسری مرتبہ اولمپک گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔

1971میں پہلی مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ متعارف کرایا گیا تو جیت کا پہلا مزہ بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے خالد محمود کی قیادت میں چکھا۔ 1978 میں اصلاح الدین اور1982 میں اختر رسول کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کا جادو ایک بار پھر سر چڑھ کر بولا اور پھر بارہ سال کی اتار چڑھاؤ والی کارکردگی کے بعد 1994 میں شہباز احمد کی قیادت میں پاکستانی ہاکی ٹیم ایک بار پھر ورلڈ چیمپئن بن گئی۔

جہانگیر خان
جہانگیرخان سکواش ہی میں نہیں دنیا بھر میں پاکستان کا تعارف بن گئے

ان سات بڑی فتوحات کے علاوہ بھی پاکستان نے ہاکی کے میدان میں کئی دیگر اہم مقابلے بھی جیتے ہیں جن میں جونیئر عالمی کپ، چیمپئنز ٹرافی اورایشین گیمز قابل ذکر ہیں۔

انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے شہباز احمد، اصلاح الدین، سمیع اللہ، حسن سردار، حنیف خان، شہناز شیخ، رشید جونیئر، منظور حسین عاطف، عبدالوحید، منظور جونیئر، منورالزماں، کامران اشرف اور سہیل عباس جیسے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی نمایاں نظر آتی ہے۔

ہاکی کی طرح اگرچہ کرکٹ میں پاکستان ایک سے زائد بار عالمی چیمپئن نہیں بن سکا ہے لیکن ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں کی کئی یادگار فتوحات اور کھلاڑیوں کے انفرادی سنگ میل اور عالمی ریکارڈز کی وجہ سے پاکستان میں بھی کرکٹ ایک کھیل نہیں بلکہ جذباتی وابستگی اور جنونی کیفیت کا نام ہے جس کا احاطہ کرنا چند سطروں یا صفحات میں ممکن نہیں۔

1992 کے ورلڈ کپ کی جیت کو پاکستانی کرکٹ کا نقطۂ عروج کہا جاتا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں محدود اوورز کا عالمی چیمپئن بننا اس وقت خواب نظر آ رہا تھا جو کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے سبب حقیقت کا روپ اختیار کرگیا۔

شہباز
انیس سو چورانوے میں شہباز احمد کی قیادت میں پاکستانی ہاکی ٹیم اب تک آخری بار ورلڈ چیمپئن بنی

جہاں تک ٹیسٹ کرکٹ کا تعلق ہے تو اوول، لارڈز، بنگلور، سڈنی اور ان جیسی کئی دوسری فتوحات پاکستانی کرکٹ کی حسین یادوں کے طور پر ذہنوں میں محفوظ ہوچکی ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ میں وسیم اکرم، شاہد آفریدی اور سعید انور ریکارڈ ساز کرکٹرز کے طور پر دکھائی دیتے ہیں تو ٹیسٹ کرکٹ میں فضل محمود، حنیف محمد، عمران خان، جاوید میانداد اور انضمام الحق ہمیشہ شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔

سکواش میں ہاشم خان نے جس شاندار روایت کی ابتداء کی اسے ان کے بعد آنے والوں نے پروان چڑھایا لیکن دنیائے سکواش میں جس کھلاڑی کی عظمت کے گن اپنے ہی نہیں غیر بھی گاتے ہیں وہ جہانگیرخان ہیں جنہوں نے اس کھیل کو نہ صرف نئے معنی دیے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا تعارف ان کی ذات کے ذریعے کرایا جاتا رہا۔

جہانگیرخان ساڑھے پانچ سال سکواش کورٹ میں ناقابل شکست رہے۔ انہوں نے دس برٹش اوپن مسلسل جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کے جیتے گئے ورلڈ اوپن ٹائٹل کی تعداد چھ تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آج بھی ان کی شخصیت کا سحر قائم ہے۔

بین الاقوامی سنوکر میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت مستقل لیکن کارکردگی محدود رہی ہے تاہم اس محدود کارکردگی میں محمد یوسف اس لیے سب سے منفرد نظر آتے ہیں کہ وہ واحد پاکستانی کیوسٹ ہیں جنہوں نے امیچر سنوکر کا عالمی اعزاز جیتا ہے۔ انہوں نے یہ کامیابی 1994 میں جنوبی افریقہ میں منعقدہ ورلڈ چیمپئن شپ میں حاصل کی تھی۔

محمد یوسف ایشین سنوکر چیمپئن بننے والے بھی پہلے اور اب تک واحد پاکستانی ہیں۔

 محمد یوسف
محمد یوسف ایشین سنوکر چیمپئن بننے والے بھی پہلے اور اب تک واحد پاکستانی ہیں

ان چار کھیلوں کے علاوہ ایتھلیٹکس میں پاکستان پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں ایک بڑی قوت کے طور پر موجود تھا جبکہ ریسلنگ میں بھی اسی دور میں پاکستان نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

باکسنگ، کشتی رانی، ٹیبل ٹینس، ویٹ لفٹنگ، ٹینس اور بیڈمنٹن میں پاکستان ایشیائی سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا ہے۔

شاندار کامیابیوں کے ایک طویل سلسلے کے بعد پاکستان سپورٹس اس وقت اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ پچھلے ایک عشرے سے کوئی بھی عالمی اعزاز پاکستان کے پاس نہیں ہے۔ کچھ لوگ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ جنہیں کھیل سنبھالنے کے لیے دیے گئے تھے وہ کھیلنے لگ گئے۔

جہانگیر خاناسکواش میں خدمات
جہانگیرخان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری
پاکستان ہاکیسینیئرز کا افسوس
’پاکستان ہاکی دس سال پیچھے چلے گئی ہے‘
سالنامہ’ کرکٹ کا سال‘
کرکٹ میں کامیابی مگر ہاکی میں صرف دعوے
کرکٹ جیت گئی
تماشائیوں نے اچھے کھیل کی بھرپور داد دی
یادیں کرکٹ کی
انڈیا پاکستان کی کرکٹ تاریخ کی جھلکیاں
صالح محمدپاکستانی یا افغانی
سنوکر کھلاڑی صالح محمد کی شہریت؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد