معمر ترین ہاکی اولمپیئن کا انتقال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے معمر ترین ہاکی اولمپیئن فیروز خان سو سال کی عمر کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ 1928 اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی برصغیر کی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔ طویل عمری کے باوجود فیروز خان چاق و چوبند تھے اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔انہوں نے گزشتہ سال9 ستمبر کو اپنی سوویں سالگرہ منائی تھی جس میں ان کے صاحبزادے ائرمارشل ( ر) فاروق فیروزخان اور خاندان کے دیگر افراد نے شرکت کی تھی۔ فیروزخان اپنی ذات میں ہاکی کی مکمل تاریخ تھے جو ان کے چہرے پر صاف پڑھی جاسکتی تھی۔وہ ہندوستانی ہاکی کی درونِ خانہ سیاست کے سبب صرف ایک ہی اولمپکس میں غیرمنقسم ہندوستان کی نمائندگی کرسکے۔ وہ کہتے تھے کہ دھیان چند کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے سلیکٹرز ان سے ان کی اصل پوزیشن سینٹرفارورڈ کی بجائے رائٹ ان پر کھیلنے کی منتیں کرتے تھے کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ دھیان چند صرف سینٹرفارورڈ ہی کھیل سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھیان چند ورلڈ کلاس کھلاڑی تھا لیکن جادوگر نہیں۔ فیروزخان پاکستان بننے کے بعد سلیکٹر بھی رہے اس دوران انہوں نے کسٹمز ہاکی کلب کو بھی پروان چڑھایا لیکن بعد میں حالات سے دلبرداشتہ ہوکر گوشہ نشین ہوگئے۔ آخری ایام میں وہ جونیئرایشیا کپ کے دوران خاص مہمان کے طور پر ہاکی کلب میں نظر آئے لیکن گھٹنوں کی تکلیف کے سبب وہیل چیئر استعمال کرنے والے فیروزخان کو یہ بات پسند نہ تھی کہ انہیں کسی تقریب میں وہیل چیئرمیں لایا جائے۔ اس لیے وہ گھر پر ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ انہیں انٹرویو دینا پسند نہ تھا لیکن اگر کوئی صحافی گھر آجاتا تو مہمان نوازی میں کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ فیروزخان کے انتقال سے برصغیر کی ہاکی کا ایک اہم باب مکمل ہوگیا جسے تاریخ کے صفحات پر ہی اب پڑھا جا سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||