سنوکر کھلاڑیوں کی مشکلات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنوکر ان چار کھیلوں میں سے ایک ہے جن میں پاکستان نے عالمی اعزاز جیتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ کھیل بڑے بڑے کلبوں اور جمخانوں تک محدود تھا لیکن گزشتہ سترہ اٹھارہ برسوں کے دوران سنوکر کی رنگ برنگی گیندیں پورے ملک میں پھیلی نظرآتی ہیں اور ہر چھوٹے بڑے شہر میں نوجوان سنوکر ٹیبلز پر اپنی صلاحیتیں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں پاکستان میں سنوکر کو عوامی کھیل بنانے میں پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کی کوششوں کا بڑا دخل ہے جس نے قومی اور صوبائی سطح پر ٹورنامنٹس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی ہر اہم بین الاقوامی ایونٹ میں شرکت کو یقینی بنایا ہے اس کے علاوہ وقتا فوقتا متعدد عالمی مقابلوں کی میزبانی کے ذریعے بھی پاکستان کو سنوکر کے عالمی افق پر ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کو محدود وسائل کے سبب مسائل کا بھی سامنا ہے گوکہ اسے طویل عرصے سے ایک اسپانسر کی رفاقت حاصل ہے لیکن دوسرے ادارے سنوکر کی طرف راغب نہیں ہوسکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک اور ملک سے باہر غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو کرکٹ اور ہاکی کی طرح ملازمتیں میسر نہیں ہیں نوین پروانی کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں لوگوں میں اب شوق کم ہورہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے کھلاڑی یہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ کھلاڑی مالی طور پر آسودہ حال نہیں ہیں۔ فرحان مرزا اور خرم آغا بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک سے باہر جاچکے ہیں۔ نوین پروانی کا کہنا ہے کہ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے اپنے طور پر کام کیا ہے لیکن جونیئرسطح پر قومی جونیئر چیمپئن شپ نہیں ہوتی ان حالات میں نوعمر نئے کھلاڑی کیسے سامنے آئیں گے۔ اسوقت قومی سطح پر وہی پرانے چہرے کھیلتے نظرآتے ہیں آخر یہ کب تک کھیلتے رہیں گے؟ نوین پروانی پاکستان اور بھارت کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارتی کھلاڑی چونکہ بلیئرڈز باقاعدگی سے کھیلتے ہیں لہذا ان کا کیوبال پر کنٹرول کمال کا ہوتا ہے اس کے علاوہ بھارت کے پاس ورلڈ بلیئرڈز چیمپئنز بھی رہے ہیں جو اپنا تجربہ سنوکر کے کھلاڑیوں کو منتقل کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستان میں کوچنگ کا کوئی تصور نہیں ہے کھلاڑی خود ہی کھیل کھیل کر اور پروفیشنل کھلاڑیوں کی وڈیوز دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||