سنوکر میں ’میچ فِکسنگ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنوکر کا عالمی ادارہ ورلڈ سنوکر، برطانیہ کے ایک اخبار میں چھپنے والے ان الزامات کی تحقیق کر رہا ہے کہ سنوکر کے کھلاڑی کوینٹین ہان نے پیسے لے کر چائنا اوپن کا ایک میچ ہارا تھا۔ ورلڈ سنوکر کے چیئرمین سر راڈنی والکر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب ادارہ انضباطی کارروائی کا عمل شروع کرے گا۔ انہوں نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ اس بات کی اطلاع کوینٹین ہان کو دے دی گئی ہے اور انہیں دعوت دی گئی کہ ان الزامات سے متعلق اپنا بیان جاری کریں۔ ’اس کے بعد انہیں ورلڈ سنوکر کی انضباطی کارروائی کی میٹنگ میں بلایا جائے گا‘۔ والکر نے کہا کہ ہم برطانوی انصاف کے اس اصول پر کام کرتے ہیں کہ ’انسان اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی‘۔ ہان نے ایک بیان میں ’میچ فِکسنگ‘ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجھے بدنام کرنے کی جاری سازشوں کا ایک حصہ ہے۔ میچ فِکسنگ کے الزامات سے پہلے ہان پر جنسی تشدد کے الزامات لگائے گئے تھے اور ابھی ان الزامات سے بری ہوئے انہیں دو ہی دن ہوئے ہیں۔ ستائس سالہ آسٹریلوی کھلاڑی ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ وہ اپریل میں ہونے والی ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ کے پہلے ہی راؤنڈ میں ہار گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||