پاک بھارت سنوکر سیریز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایک بار پھر سنوکر ٹیبل پر مدمقابل ہیں۔ اس بار ان کے درمیان مقابلے بھارت کے شہر چندی گڑھ میں سترہ سے بیس جون تک ہوں گے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان سیریز گزشتہ سال دسمبر میں کراچی میں کھیلی گئی تھی۔ پاک بھارت سنوکر سیریز کے لیے پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے چھ کیوسٹس کا انتخاب کیا تھا جن میں خرم آغا، صالح محمد، محمد یوسف، عمران شہزاد، نوین پروانی اور عتیق لطیف بخش شامل ہیں۔ لیکن نوین پروانی اپنے والد کی اچانک شدید بیماری کے سبب بھارت نہیں جاسکیں گے لہذا ان کی جگہ عتیق لطیف بخش کو اسکواڈ میں شامل کرلیاگیا ہے۔ بھارت کو ایک بار پھر تجربہ کار یاسین مرچنٹ کے علاوہ عالمی امیچیور چیمپئن پنکج ایڈوانی اور الوک کمار کی خدمات حاصل ہونگی۔ الوک کمار نے چند روز قبل اردن میں ہونے والی ایشین سنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں ہم وطن پنکج ایڈوانی کو شکست دی تھی۔ ایشین چیمپئن شپ میں پاکستان کے محمد یوسف اور عمران شہزاد بھی شریک تھے لیکن دونوں کیوسٹس کو پری کوارٹرفائنل میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سنوکر سیریز میں تین ٹیسٹ میچ ہونگے ۔ ہر کیوسٹ کو تھری فریمز پر مشتمل ایک میچ کھیلنا ہوگا۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر علی اصغر ولیکا کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں اپنے ہم منصب سے دونوں ملکوں کے درمیان سنوکر سیریز سالانہ بنیادوں پر منعقد کرنے کی بات کرینگے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں سنوکر نے پہل کی تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان جس کھیل میں پہلا رابطہ ہوا وہ سنوکر ہی ہے جس کے بعد کرکٹ سیریز کھیلی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||