BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 November, 2004, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صالح محمد سے پاکستان کوامیدیں

صالح محمد
تیسویں عالمی امیچر سنوکر چیمپئن شپ میں صالح محمد ایک بار پھر پاکستان کی سب سے بڑی امید کے طور پر شریک ہیں۔ یہ چیمپئن شپ بیس نومبر سے چار دسمبر تک ویلڈوون میں کھیلی جارہی ہے جس میں پاکستان کی نمائندگی خرم آغا اور صالح محمد کررہے ہیں۔

پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر علی اصغر ولیکا کے خیال میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز صالح محمد ہی ہونگے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صالح محمد گزشتہ سال عالمی مقابلے کا فائنل کھیل چکے ہیں جس میں انہیں بھارت کے پنکج ایڈوانی نے شکست دی تھی اور وہ ایسی ہی کارکردگی دہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

صالح محمد پاکستان کے سب سے خطرناک کیوسٹ سمجھے جاتے ہیں جنہیں انٹرنیشنل سنوکر کا خاصا تجربہ حاصل ہے وہ ایک عرصے سے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔ لیکن ان کی سب سے شاندار کارکردگی گزشتہ سال سامنے آئی جب وہ عالمی سنوکر چیمپئن شپ میں چودہ مسلسل میچز جیت کر فائنل تک پہنچے اور عام خیال تھا کہ وہ محمد یوسف کے بعد عالمی اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی بن جائیں گے۔ لیکن نوجوان بھارتی کیوسٹ پنکج ایڈوانی نے ان کے ارادوں پر پانی پھیردیااور عالمی اعزاز بھارت لے گئے۔

پنکج ایڈوانی عالمی اعزاز کا دفاع کرنے کے لئے ہالینڈ میں موجود ہونگے ان کے علاوہ ایشین چیمپئن بھارت ہی کے الوک کمار بھی عالمی مقابلے میں شریک ہیں۔ لیکن صالح محمد کو اس کی پرواہ نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عالمی مقابلے کے لئے زبردست پریکٹس کی ہے جس سے وہ مطمئن ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ گزشتہ سال جیسی کارکردگی دوبارہ دکھانے میں کامیاب رہیں گے وہ مثبت سوچ اور بلند ارادے کےساتھ کھیلیں گے۔

صالح محمد کا کہنا ہے کہ وہ پنکج ایڈوانی کو کسی بھی وقت باآسانی ہراسکتے ہیں کیونکہ ’وہ کوئی بہت بڑا کھلاڑی نہیں ہے‘ جیسا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے اسے آسانی سے شکست دی۔ بدقسمتی سے ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں ان کا دن نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ جیت کے بہت قریب آکر اس سے دور ہوگئے۔

صالح محمد کے خیال میں پاکستان میں سنوکر کے فروغ کے لئے اصغرولیکا کی کوششیں قابل ذکر ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کو کھیلنے کے مواقع فراہم کئے ہوئے ہیں اور پاکستانی کھلاڑی باقاعدگی سے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن دیگر اداروں اور سپانسرز کو بھی آگے آنا ہوگا کیونکہ ہمارے کھلاڑی مالی طور پر اتنے خوشحال نہیں کہ باہر جاکر ہر ٹورنامنٹ کھیل سکیں لہذا سپانسر کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

صالح محمد جو اسوقت بحرین میں کوچنگ کی ذمہ داری بھی نبھارہے ہیں اس بات کا افسوس ہے کہ بحرین میں ہالینڈ کے سفارتخانے نے ویزے کے لئے انہیں بہت پریشان کیا اور کئی روز چکر لگوائے جس سے انہیں بڑی کوفت ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد