’جان شیر اس کے خود ذمہ دار ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کو عالمی سطح پر سکواش کے کھیل میں شہرت دلانے والے جان شیر آج جیل میں دن کاٹ رہے ہیں۔ مگر اس عظیم کھلاڑی کے قریبی ساتھیوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ جان شیر خان کے اچھے سکواش کے کھلاڑی ہونے میں کسی کو شک نہیں لیکن ان کے اخلاق کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار ضرور کیا جاتا ہے۔ تاہم جان شیر اس معاملے پر خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ وہ کسی تنازعے کا شکار ہوئے ہوں۔ اس سے قبل سنگاپور میں ان کی شادی سے متعلق بھی کافی خبریں شائع ہوتی رہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وہ دم توڑ گئیں۔ اس مرتبہ بھی معاملہ ایک خاتون کا ہے۔ تاہم کسی شادی کا نہیں بلکہ گھر کی بربادی کا ہے۔ رقم کے ایک سیدھے سادھے تنازعے نے کافی پیچیدہ شکل اختیار کر لی ہے۔ ایک خاتون نے ان پر زبردستی انہیں ان کے مکان سے بیدخل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جان شیر کے بارے میں کئی کہانیاں گردش میں ہیں لیکن انہوں نے کبھی ان کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جان شیر کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ اکثر نجی ملاقاتوں میں بڑی بڑی باتیں کرنے کے عادی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مرتبہ انہوں نے پی آئی اے کی جانب سے مفت ٹکٹ فراہم نہ کرنے پر بھی پریس کانفرنسیں کیں۔ چھتیس سالہ جان شیر آٹھ مرتبہ عالمی سکواش چپمین، چھ مرتبہ برٹش اور ہانگ کانگ اوپن جبکہ دس مرتبہ پاکستان اوپن جیتنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں جہانگیر خان کو ان کے ساتھی اور جاننے والے بڑے اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور کی عزت کرتے ہیں۔ جہانگیر نے بھی اپنے آپ کو بڑا سنبھال کر رکھا ہے۔ لوگ اسے قسمت کی ستم ظریفی کہتے ہیں کہ پاکستان کو سکواش کی دنیا کی بلندیوں تک پہنچانے والا کھلاڑی آج ایک معمولی سے مسئلے پر جیل میں ہے۔ وہ اب بھی ذرائع ابلاغ سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحافی اس تنازعے کے بعد سے ان سے بات کرنے کی کئی کوششیں کرچکے ہیں لیکن وہ ’خاموش’ ہیں۔ جیل میں طبیعت ناساز ہونے کے بعد جان شیر خان کو پشاور کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہاں ڈاکٹروں کی کوششوں سے ان کی صحت تو بحال ہوجائے گی لیکن اپنی شہرت درست کرنے کے لیئے انہیں خود کچھ کرنا ہوگا۔ | اسی بارے میں جان شیر خان کو جیل بھیج دیا گیا13 July, 2006 | کھیل جان شیر کی واپسی10.08.2002 | صفحۂ اول ورلڈ جونیئر سکواش کیلئے پاکستانی ٹیم10 June, 2006 | کھیل ’پروفیشنل افراد کی ضرورت ہے‘ 16 May, 2006 | کھیل سکواش: رحمت خان مستعفی30 March, 2006 | کھیل سکواش: روشن خان انتقال کرگئے 07 January, 2006 | پاکستان سکواش چمپئن شپ، انگلینڈ فاتح14 December, 2005 | کھیل سکواش: کارلا خان کا ایک اور اعزاز 03 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||