BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکواش: روشن خان انتقال کرگئے
روشن خان
انتقال کے وقت ان کی عمر 78 سال تھی
سکواش کے سابق عالمی چیمپئن روشن خان طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں گزشتہ سال دل کا دورہ پڑا تھا اور اس کے بعد سے وہ کوما میں تھے۔ روشن کی عمر 78 سال تھی۔

روشن خان ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر اور سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان کے والد تھے۔ جہانگیر خان کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے وہ کوما میں چلے گئے تھے جس کے بعد وہ ہوش میں نہیں آئے۔

ان کی تدفین فوجی قبرستان میں اپنے بیٹے طورسم کے پہلو میں کی گئی۔ ان کی نماز جنازہ میں معروف کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیداران، نیوی اور پی اے ایف کے افسران دوستوں اور رشتہ داروں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں میں ہاکی کے سابق کپتان اصلاح الدین، سمیع اللہ، حسن سردار، حنیف خان، شاہد علی خان، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ظہیر عباس، معین خان، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو عارف علی عباسی، سندھ ایڈوائزر وسیم اختر اور کھیلوں کے وزیر قمر منصور شامل تھے۔

روشن خان نے پہلی مرتبہ انیس سو ستاون میں برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی۔ وہ تین مرتبہ یو ایس اوپن کے فاتح بھی رہے۔

روشن خان انیس سو ستائیس کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد آرمی میں ملازم تھے لیکن انہوں نے پاکستان نیوی میں ملازمت اختیار کی۔

وہ بال بوائے تھے اور نیوی افسران جب سکواش کھیلتے تو وہ ان کو بال اٹھا کر دیا کرتے تھے۔ یہیں سے ہی ان میں سکواش کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔

بعد میں انہیں نیوی کی جانب سے سکواش کے مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔

ان کی ان کامیابیوں سے سکواش کی دنیا میں پاکستان کی طویل حکمرانی کا آغاز ہوا۔

سکواش کے تین فاتح اعظم خان، روشن خان اور ہاشم خان

روشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے دس مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جہانگیر چھ مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح بھی رہے ہیں۔

سکواش کی تاریخ میں روشن اور جہانگیر خان واحد باپ اور بیٹا ہیں کہ جنہوں نے برٹش اوپن ٹائٹل جیتا ہے۔

روشن خان کو کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی۔

ان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے سکواش کھیلی۔ طورسم خان کا انتقال 1979 میں سکواش کھیلتے ہوئے کورٹ میں ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد