روشن خان کی حالت بہتر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسکواش کے سابق عالمی چیمپین روشن خان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ انہیں چند روز قبل نازک حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹے ان کی زندگی کے لئے بہت اہم ہوں گے۔ ستتر سالہ روشن خان کو جمعرات کو بے ہوشی کے عالم میں کراچی کے مڈایسٹ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہیں۔ روشن خان کے بیٹے اور دس بار کے برٹش اوپن چیمپئن جہانگیرخان کے مطابق ان کے والد کے دماغ میں سوجن تھی جس کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ جہانگیرخان لندن میں تھے جہاں انہیں اپنے والد کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع ملی اور وہ فورا کراچی پہنچ گئے ۔ روشن خان نے 1957 میں برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی تھی اس کے علاوہ انہوں نے کینیڈین اوپن اور یوایس اوپن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی ۔ روشن خان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے اسکواش کھیلی ۔ طورسم خان کا انتقال 1979 میں اسکواش کھیلتے ہوئے کورٹ میں ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||