BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 16:07 GMT 21:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ میں کامیابی ، ہاکی میں صرف دعوے

انضمام الحق
سنہ 2005 پاکستانی کرکٹ کے کامیاب ترین سالوں میں ایک تھا
کرکٹ

کرکٹ پاکستانیوں کا پسندیدہ کھیل ہے اور جب پاکستانی ٹیم ملک میں یا ملک سے باہر کھیل رہی اور جیت رہی ہو تو کرکٹ کی دیوانی اس قوم کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

کرکٹ کے حوالے سے سنہ 2005 پاکستانی قوم کو کئی اچھی خبریں دے گیا اور گزشتہ برسوں کی نسبت سنہ 2005 میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے کافی کامیابیاں حاصل کیں۔

سال کا آغاز اگرچہ اچھا نہیں تھا اور پاکستان کا آسٹریلیا کا دورہ ناکام رہا۔ سنہ 2004 کے آخری مہینے میں شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں آسٹریلیا نے تینوں میچوں میں پاکستان کو شکست سے دوچار کیا۔ پہلا ٹیسٹ میچ تو آسٹریلیا نے چار سو اکانوے رنز سے جیتا اور اس میچ کی دوسری انگز میں پاکستان کی پوری ٹیم محض بہتر رنز بنا سکی۔

آسٹریلیا میں ہونے والے ایک روزہ سہ فریقی ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان کی کارکردگی کچھ خاص اچھی نہ تھی اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تو تین ایک روزہ میچز میں سے دو جیتے اور ایک ہارا لیکن آسٹریلیا کے خلاف اس کی کارکردگی کافی ناقص رہی سوائے اس میچ کے جو پاکستان نے تین وکٹوں سے جیتا۔ تین ایک روزہ پر مشتمل اس سہ فریقی ٹورنامنٹ کے فائنل کے پہلے دو میچز ہی میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ہرا کر ٹورنامنٹ جیت لیا۔

مارچ۔اپریل سنہ 2005 میں بھارت میں ہونے والی سیریز سے قبل بھارت کی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ سنہ 2004 میں پاکستان میں ہونے والی پاک بھارت سیریز میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی تھی۔ بھارت جانے والی اس ٹیم میں سپیڈ سٹار شعیب اختر بھی شامل نہیں تھے۔ انہوں نے خود ہی ان فٹ ہونے کی بناء پر ٹیم میں شمولیت سے معذرت کر لی تھی۔

شعیب اختر نے پاکستان کے دورۂ بھارت میں نظرانداز کیے جانے کے بعد انگلینڈ کے دورۂ پاکستان میں بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کیا

بھارت جانے سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے شعیب اختر کو آسٹریلوی دورے کے دوران نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ سو ڈالر کا جرمانہ بھی کیا تھا۔

پاکستان کی ٹیم نے سپیڈ سٹار شعیب اختر کے بغیر بھی مبصرین کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔

موہالی میں ہونےوالا پہلا ٹیسٹ میچ تو برابری پر ختم ہوا تاہم کلکتہ میں ہونے والےدوسرے ٹیسٹ میچ میں بھارت نے پاکستان کو ایک سو پچانوے رنز سے ہرا دیا۔ بنگلور میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ پاکستان کی ٹیم نے زبردست کم بیک کیا اور کلکتہ ٹیسٹ میچ میں ناکام ہونے والی بیٹنگ لائن اپ نے تیسرے ٹیسٹ میچ میں کمال کر دیا اور یوں پاکستان نے یہ میچ ایک سو اڑسٹھ رنز سے جیت کر ٹیسٹ سیریز برابر کر دی۔

بھارت کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی پاکستان کی ٹیم نے زبردست کھیل پیش کیا۔چھ میچوں پر مشتمل اس ایک روزہ سیریز میں اگرچہ پاکستان کی ٹیم پہلے دو میچ ہار گئی تاہم بعد کے چاروں میچز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کر کے اس سیریز کو2-4 سے جیت لیا۔

اس سیریز کا آخری میچ دیکھنے کے لیے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف بھی بھارت پہنچے اور جنرل ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی کی یاد تازہ کر دی۔

بھارت کے ساتھ کامیاب سیریز کے بعد پاکستان کا اگلا معرکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا اور ویسٹ انڈیز کو انہی کے ملک میں شکست دینا اب بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔

کامران اکمل نے اس برس پاکستان ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا

ویسٹ انڈیز کے دورے میں بھی شعیب اختر کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ اس بار شعیب کے بقول وہ ٹیم کا حصہ بننے کے لیے بالکل فٹ تھے۔

مئی جون میں دورۂ ویسٹ انڈیز میں دو ٹسیٹ میچوں کی سیریز کھیلی گئی جو ایک ایک میچ سے برابر رہی جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ایک روزہ میچز کی سیریز پاکستان نے0-3 سے جیتی اور یوں ویسٹ انڈیز کا دورہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

دورۂ ویسٹ انڈیز کے بعد پاکستان کی ٹیم کو کئی مہینوں کا آرام ملا اور تقریباّ پانچ ماہ کے بعد پاکستان ٹیم اپنے ہی ملک میں انگلینڈ کی ٹیم کا سامنا کرنا تھا۔

انگلش ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز میں اٹھارہ سال بعد فتح کے سبب مبصرین پاک انگلینڈ سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کو فیورٹ قرار در رہے تھے اور سیریز کے آغاز سے پہلے پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر نے بھی انگلینڈ کی ٹیم کو جیت کے لیے فیورٹ قرار دیا لیکن یہ سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز 0_2 سے جیتی

پاکستان کی ٹیم نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 سے فتح حاصل کی۔ ملتان اور لاہور میں ہونے والے پہلے اور تیسرے ٹیسٹ میچز جیتے اور فیصل آباد میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ کی ٹیم ہارتے ہارتے میچ بچا گئی۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ سیریز میں 2-3 سے فتح حاصل کی۔
انگلینڈ کے خلاف سیریز میں فاسٹ بالر شعیب اختر کو شامل کیا گیا اور انہوں نے اپنی زبردست کارکردگی سے ناقدین کو خاموش کر دیا۔

پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق اس سال اپنی کامیابیوں کو ٹیم مشترکہ کوشش کو قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ٹیم میں اتحاد اور جیت کے جذبے کے سبب اس سال ہماری کارکردگی بہتر ہوئی ہے جبکہ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان عمران خان اس سال کی تمام کامیابیوں کا سہرا کپتان انضمام الحق کے سر باندھتے ہیں۔

ہاکی

پاکستان کے قومی کھیل ہاکی میں پاکستانی ٹیم اس سال بھی دعووں اور وعدوں کے باوجود قوم کو کوئی خاص اچھی نوید نہیں دے سکی۔

پاکستانی کپتان محمد ثقلین پر آئی ایچ ایف نے پابندی لگائی جو بعد میں ختم کر دی گئی

پاکستان کی ہاکی ٹیمیں کم اہمیت والے ٹورنامنٹ میں تو پھر کچھ اچھی کارکردگی دکھاتی رہیں لیکن بڑے اور اہم ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی کا گراف بہت نیچے رہا۔

مارچ میں لاہور میں ہونے والے چار ملکی جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ اور ملائشیا میں ہونے والے چھ ملکی ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کی کامیابی کے بعد جونیئر ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ نے دعوے کیے کہ وہ ہالینڈ میں جولائی میں ہونے والے جونیئر عالمی ہاکی کپ میں بھی گولڈ میڈل لیں گے جبکہ جن مقابلوں میں پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی ان میں کوئی خاص بڑی ٹیموں نے حصہ نہیں لیا تھا۔

گولڈ میڈل کے دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ جانے والی جونیئر ہاکی ٹیم کی کارکردگی عالمی کپ میں انتہائی مایوس کن رہی اور وہ ساتویں نمبر پر رہی۔

جونیئر ورلڈ کپ میں ٹیم نے ساتویں پوزیشن حاصل کی

سنیئر ہاکی ٹیم نے جون میں اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کھیلا جس میں اس نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اگست میں پاکستان نے جرمنی میں چار ملکی ٹورنامنٹ ہیمبرگ ماسٹر میں حصہ لیا اور آخری نمبر پر رہی۔

اس ٹورنامنٹ کے آخری میچ میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد ثقلین پر آسٹریلوی کھلاڑی کو ہاکی مارنے کا الزام بھی لگا۔ اس کے فوراّ بعد ہالینڈ میں ہونے والی روبو بینک ٹرافی میں پاکستان کی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم پانچویں نمبر پر رہی

اس ٹورنامنٹ میں دنیائے ہاکی کی بڑی ٹیموں نے شرکت کی لیکن یورپی ممالک جن کا ٹارگٹ ورلڈ کپ، اولمپکس اور چمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ ہوتا ہے وہ اکثر ایسے ٹورنامنٹس میں اپنے جونیئر کھلاڑیوں کو موقع دیتے ہیں۔

بہرحال اس جیت سے پاکستان کی ہاکی ٹیم کو جو کافی عرصے سے پہلی پوزیشن کے لیے ترس رہی تھی کچھ سہارا ملا۔ تاہم اس جیت سے پاکستان کی ہاکی مینجمنٹ ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ہوگئی اور ایک مرتبہ پھر بھارت میں ہونے والی چمپیئنز ٹرافی کے لیے پھرگولڈ میڈل کے دعوے ہونے لگے۔

یہ دعوے بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پاکستان کی چمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں کارکردگی نہایت مایوس کن رہی۔ اور پاکستانی ٹیم پانچویں نمبر پر رہی۔

سکواش

جس کھیل میں جہانگیر اور جان شیر کے زمانے میں پاکستان کا طوطی بولتا تھا اس سال بھی پاکستانی سینئر کھلاڑی کوئی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ جونیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی البتہ بہتر رہی اور پاکستان نے برٹش اوپن جونیئر مقابلوں میں تین طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

برطانوی نژاد پاکستانی کھلاڑی کارلا خان

جونیئر ایشن چمپیئن شپ بھی پاکستان نے جیتی اور عامر اطلس جونیئر ایشن چمپیئن بنے۔ سینیئر کھلاڑیوں میں شاہد زمان کی عالمی رینکنگ گزشتہ سال سے بہتر تو ہوئی اور انہوں نے اپنے ملک میں ہونے والے کچھ ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی بھی دکھائی تاہم وہ اور کوئی اور پاکستانی کھلاڑی کسی بھی بڑے اور اہم ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکے۔

پاکستان سکواش فیڈریشن نے کراچی میں کئی سال بعد پاکستان اوپن کا انعقاد کیا لیکن اس میں پاکستان کا کوئی کھلاڑي سیمی فائنل کے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی نہیں کر سکا۔

اسی برس کے آخر میں اسلام آباد میں مردوں کی عالمی ٹیم سکواش چمپیئن شپ منعقد کی گئی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ٹیم سیڈنگ میں ساتویں نمبر پر تھی اور اسی سیڈنگ کی لاج رکھتے ہوئے پاکستان کی ٹیم نے ساتویں پوزیشن ہی حاصل کی۔

انگلش کی ٹیم کراچی میں سکواش کی عالمی چیمپئن بنی

پاکستان سکواش فیڈریشن نے پاکستان میں پہلی مرتبہ خواتین کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ وسپا سکواش ٹورنامنٹ بھی منعقد کرایا جسے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کھلاڑی کارلا خان نے جیتا۔

ٹینس

ٹینس کے کھیل میں سال کا آغاز تو پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے کافی اچھا تھا۔ پاکستان نے لاہور میں ہونے والے ایشیا اوشینا گروپ ون ڈیوس کپ ٹائی میں یکے بعد دیگرے تھائی لینڈ اور چائنیز تائپے کو شکست دی۔

پاکستان کے ٹینس سٹار اعصام الحق

چائنیز تائپے کو شکست دے کر پاکستان نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا لیکن بعد میں چلی میں ہونے والی ٹائی میں صفر کے مقابلے پانچ میچوں سےشکست کھائی اور دوبارہ گروپ ون میں آ گئے۔ پاکستان کے ٹینس کے کھلاڑیوں اعصام الحق اور عقیل خان کی بدولت سعودی عرب میں ہونے والی پہلی اسلامک گیمز میں پاکستان نے تین گولڈ میڈل حاصل کیے۔

باکسنگ

ایمیچیور باکسنگ میں پاکستانی باکسرز کئی بین الاقوامی مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ اس سال پاکستان نے استنبول میں ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ اور آذر بائی جان میں حیدر علی ٹورنامنٹ میں شرکت کی ان دونوں ٹورنامنٹ میں پاکستانی باکسرز کواٹر فائنل تک پہنچے۔

پاکستانی جونئیر باکسروں نے قابلِ اطمینان کارکردگی دکھائی

کراچی میں منعقدہ ایشین جونیئرٹورنامنٹ میں پاکستان کی باکسنگ ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ ویت نام میں ہونے والی ایشین باکسنگ چمپیئن شپ میں تین گولڈ میڈل حاصل کیے۔

فٹبال

فٹبال میں پاکستان کی عالمی رینکنگ میں کوئی فرق نہیں آیا البتہ پاکستان میں ہونے والی پہلی پاک بھارت فٹ بال سیریز پاکستان نےگول اوسط پر جیت لی مگر بلند و بانگ دعووں کے باوجود پاکستان کی فٹبال ٹیم کراچی میں ہونے والی ساف فٹبال چمپیئن شپ کے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش سے ہار گئی۔

پنجاب کی ٹیم نے پہلا وومن فٹبال ٹورنامنٹ جیتا

فٹ بال کے کھیل میں اس سال پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے ایک اہم اقدام کیا اور تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں قومی وومن فٹ بال چمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ اس چمپیئن شپ میں آٹھ ٹیموں نے شرکت کی اور اسے پنجاب کی ٹیم نے جیتا۔

ایتھلیٹکس

ایتھلیٹکس میں دو پاکستانی ایتھلیٹ افضل بیگ اورگلناز نے فن لینڈ میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چمپیئن شپ میں شرکت کی اور یہ محض ایک شرکت ہی ثابت ہوئی۔

تیراکی

تیراکی کے عالمی مقابلوں میں بھی پاکستان کی تیراک خواتین اور مردوں نے شرکت کی تاہم کسی بھی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ کچھ تیراکوں نے تو اپنے ریکارڈ ہی بہتر کیے مگر کچھ تو یہ بھی نہ کر سکے۔

پاکستانی تیراک ثناء واحد

بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس گولف، سنوکر،وولی بال بیس بال اور دیگر کئی کھیلوں میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت تو کی لیکن کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد