سنوکر:صالح پاکستانی یا افغانی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے سنوکر کے کھلاڑی صالح محمد کو اس ماہ کراچی میں ہونے والی ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں حصہ لینے سے روکنے سے متعلق پٹیشن پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت چھ جون تک ملتوی کردی ہے۔ یہ پٹیشن ایک شہری جاوید اختر نے قاضی عبدالحمید صدیقی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے، جس میں صالح محمد، پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن، پاکستان سپورٹس بورڈ، وزارت کھیل، وزارت داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ صالح محمد گزشتہ سال افغانستان چلے گئے تھے اور پھر انہوں نے دوحا کے ایشین گیمز میں افغانستان کی نمائندگی بھی کی۔ اس کے
ایسوسی ایشن نے ان کی معافی منظور کرتے ہوئے انہیں قومی رینکنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی اجازت دے دی اور اب وہ ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کر ینگے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صالح محمد کا یہ قدم پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت کوئی بھی پاکستانی افغانستان کی شہریت نہیں رکھ سکتا۔ پاکستانی قوانین کے مطابق پاکستانی شہری سولہ ممالک کے ساتھ دوہری شہریت رکھ سکتے ہیں، جن میں افعانستان شامل نہیں ہے۔
ایشین سنوکر چیمپئن شپ کے سلسلے میں جمعہ کو منعقد کی گئی پریس کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صالح محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے سنوکر کو خیرباد کہنے کا سوچ لیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کاروبار کا سوچ کر افغانستان گئے تھے۔ ان کے بقول وہ وہاں پر سنوکر پارلر بنا رہے تھے مگر کچھ ایسی مجبوری آگئی کہ انہیں ایشین گیمز میں افغانستان کی نمائندگی کرنی پڑی، حالانکہ وہ کھیلنا نہیں چاہتے تھے۔ ایشین سنوکر چیمپئن شپ گیارہ سے سترہ جون تک کراچی میں منعقد ہو رہی ہے جس میں سولہ ممالک شریک ہیں۔ |
اسی بارے میں سنوکر: ’سکیورٹی کے خدشات نہیں‘ 23 May, 2007 | کھیل صالح افغانستان کی نمائندگی کریں گے28 November, 2006 | کھیل شوکت علی گولڈ میڈل کے لئے پرعزم13 October, 2006 | کھیل ٹیم کے انتخاب کا طریقہِ کار تبدیل16 April, 2006 | کھیل پاکستانی خواتین ورلڈ سنوکر میں13 September, 2005 | کھیل صالح محمد، ایشین سنوکر سیمی فائنل29 July, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||