شوکت علی گولڈ میڈل کے لئے پرعزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں سنوکر کی شمولیت کے بعد جس کھلاڑی نے اس میں پہلا گولڈ میڈل جیتا ہے وہ پاکستان کے شوکت علی ہیں۔ انہوں نے یہ طلائی تمغہ آٹھ سال قبل بنکاک میں منعقدہ ایشین گیمز میں جیتا تھا اور اب وہ ایک بار پھر دسمبر میں دوحہ میں ہونے والے ایشین گیمز میں طلائی تمغے کے لئے پاکستان کی سب سے بڑی امید ہیں۔ چھتیس سالہ شوکت علی لنکاشائر میں رہتے ہیں اور اس وقت سنوکر کی عالمی پروفیشنل رینکنگ میں 56ویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر اصغرولیکا کی خواہش اور کوششوں کے نتیجے میں وہ دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کے لئے آمادہ ہوئے ہیں حالانکہ ان کا سابقہ تجربہ خوشگوار نہیں تھا۔ شوکت علی کو اس بات کا افسوس ہے کہ ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد سرکاری سطح پر انہیں نشان امتیاز دیا گیا لیکن اس کامیابی پر جس مالی انعام کے وہ حقدار تھے وہ انہیں نہ مل سکا بلکہ انہیں نشان امتیاز کا ایوارڈ لینے کے لئے اپنے خرچ پر انگلینڈ سے پاکستان آنا پڑا۔ شوکت علی کہتے ہیں کہ انگلینڈ میں ان کے دوست اور ساتھی کھلاڑی ان کی اس بات پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ بنکاک گولڈ میڈل جیتنے پر انہیں کوئی کیش ایوارڈ نہیں ملا۔ شوکت علی دوحہ میں ایک اور گولڈ میڈل جیتنے کے لئے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایشین گیمز میں موجود تمام کیوسٹس کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ وہ انگلینڈ میں تمام کیوسٹس کو دیکھ چکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو وہ گولڈ میڈل جیت جائیں گے۔ گزشتہ سال گیراج میں سے کیو کھوجانے کے سبب شوکت علی کو کھیلنے میں بڑی دقت ہوئی اور وہ چھ رینکنگ ٹورنامنٹس میں سے کسی کے بھی فائنل راؤنڈ تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔ اپنی خراب کارکردگی کا سبب وہ اسی کو قرار دیتے ہیں۔ ایشین گیمز میں اپنے دیگر ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں شوکت علی کہتے ہیں کہ خرم آغا اور نوین پروانی قدرتی صلاحیتوں کے حامل کیوسٹس ہیں۔ شوکت علی ایشین گیمز کے سنوکر ایونٹ میں نہ صرف پاکستان کی نمائندگی کرینگے بلکہ اس وقت وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی کوچنگ بھی کررہے ہیں۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے بلیئرڈز ایونٹ کی تیاری کے لئے سری لنکا کے ہنری بوٹیجو کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ | اسی بارے میں ٹیم کے انتخاب کا طریقہِ کار تبدیل16 April, 2006 | کھیل پاکستانی سنوکر کے لیئے تھائی کوچ 24 May, 2006 | کھیل ایشین سنوکر: پاکستان کی عمدہ کارکردگی 08 June, 2004 | کھیل سنوکر کے ’ بابے‘ بحرین میں 02 July, 2005 | کھیل پاکستان کی میزبانی خطرے میں08 August, 2005 | کھیل ورلڈ سنوکر، پاکستان آئندہ میزبان 03 December, 2004 | کھیل صالح محمد سے پاکستان کوامیدیں18 November, 2004 | کھیل صالح محمد، ایشین سنوکر سیمی فائنل29 July, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||