پاکستان کی میزبانی خطرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے سکیورٹی کے خدشات ظاہر کیے جانے کے نتیجے میں اس سال دسمبر میں کراچی میں ہونے والی عالمی سنوکر چیمپئن شپ خطرے سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ سنوکر کی عالمی فیڈریشن نے گزشتہ سال پاکستان کو 2005 کی عالمی چیمپئن شپ کی میزبانی دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن موجودہ صورتحال میں کئی ممالک اس میں شرکت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر علی اصغر ولیکا نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں یورپی یونین کی یادداشت ملی ہے جس میں سکیورٹی کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کی ضمانت طلب کی گئی ہے۔ علی اصغر ولیکا کا کہنا ہے کہ بعض ایشیائی ممالک بھی ان خدشات کو ظاہر کر چکے ہیں لیکن چونکہ وہ ایشین سنوکر فیڈریشن کے صدر رہ چکے ہیں لہذا ان ایشیائی اور عرب ممالک کو قائل کرنا مشکل نہیں البتہ یورپی ممالک کو قائل کرنے کی وہ ہرممکن کوشش کریں گے کیونکہ ان کے بغیر عالمی مقابلہ بے رنگ ثابت ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بڑی تعداد میں ممالک کی عدم شرکت کے سبب اسپانسر بھی عدم دلچسپی کا شکار ہوکر مقابلے سے ہاتھ کھینچ لے۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں ہے کہ چیمپئن شپ کراچی سے کسی دوسرے شہر منتقل کردی جائے بلکہ جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ پورے پاکستان سے متعلق ہیں۔ اصغر ولیکا کہتے ہیں کہ موجودہ حالات پر کسی کا بس نہیں ۔ دہشت گردی دنیا میں کہیں بھی ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے ان حالات میں صرف پاکستان کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں۔
پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق سکیورٹی کی ہرممکن یقین دہانی کرائی گئی ہے اور عالمی سنوکر فیڈریشن کو یہ تجویز بھی پیش کی جا چکی ہے کہ شہر کے وسط میں واقع فائیو اسٹار ہوٹل کے بجائے شہر سے چالیس کلومیٹر دور ایک کلب میں یہ عالمی مقابلہ منعقد ہوسکتا ہے۔ علی اصغر ولیکا آئندہ ہفتے بحرین جارہے ہیں جہاں وہ عالمی جونیئر اور سینئر چیمپئن شپ کے موقع پر عالمی سنوکر فیڈریشن کے صدر پاسکل گلیمو سے ملاقات کر کے سکیورٹی کے بارے میں پائے جانے والے خدشات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ عام تاثر یہی ہے کہ اگر سکیورٹی کے خدشات کے سبب پاکستان سنوکر کے عالمی مقابلے کی میزبانی سے محروم رہا تو پھر اتنے کم وقت میں کسی دوسرے ملک کے لئے اس کا انعقاد بہت مشکل ہوگا اوراگر اس سال سنوکر کی عالمی چیمپئن شپ منعقد نہ ہوسکی تو یہ اس کھیل کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||