سنوکر کے ’ بابے‘ بحرین میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنوکر ایک ایسا کھیل ہے جس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔یہ کھیل جسمانی قوت سے زیادہ ذہنی طور پر مضبوطی کا تقاضا کرتا ہے آنکھیں گیندوں کو پوٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں تو آپ تا دیر سنوکر کھیل سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سنوکر ٹیبل پر آپ کو نوجوانوں کے ساتھ ڈھلتی عمر کے کھلاڑی بھی بھرپور جوش وخروش کے ساتھ نظرآتے ہیں۔ سنوکر کی عالمی فیڈریشن نے گزشتہ سال معمول کی عالمی چیمپئن شپ اور ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کے ساتھ ساتھ چالیس سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کی عالمی چیمپئن شپ کا تجربہ کیا جسے بڑی پذیرائی ملی یہ چیمپئن شپ ہالینڈ میں کھیلی گئی جو نیوزی لینڈ نے ڈین او کین نے جیتی اب اس سال یہ چیمپئن شپ بحرین کے شہر مناما میں پندرہ سے چھبیس اگست تک ہونے والی ہے۔ پاکستان نے اس چیمپئن شپ کے لئے سابق عالمی چیمپئن محمد یوسف اور سرورصدیقی کا انتخاب کیا ہے۔ سرورصدیقی قومی سطح پر کافی عرصے کھیل چکے ہیں۔ محمد یوسف19 سال سے انٹرنیشنل سنوکر کا حصہ ہیں اور اس طویل سفر میں وہ عالمی اور ایشیائی اعزاز جیتنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ محمد یوسف ورلڈ سینئر مقابلوں سے قبل جولائی کے آخر میں بنکاک میں ہونے والی ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرینگے۔ وسیع تجربے کے مالک محمد یوسف ملک اور ملک سے باہر نوجوان چیلنج کا مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ بحرین میں جہاں دنیا کے تجربہ کار سنوکر” بابے” موجود ہونگے وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرینگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||