صالح ، یوسف ایشیئن سنوکر میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نمبر ایک اور قومی چیمپئن صالح محمد چوبیس جولائی سے بنکاک میں شروع ہونے والی اکیسویں ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں تجربہ کار محمد یوسف کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس چیمپئن شپ میں صالح محمد کو سیڈنگ میں بھارت کے الوک کمار اورپنکج اڈوانی کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ محمد یوسف واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایشین سنوکر ٹائٹل جیتا ہے۔ صالح محمد کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہ اعزاز جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے لئے وہ ہرممکن کوشش کرینگے۔ صالح محمد کہتے ہیں کہ ایک بڑا اعزاز جیتنے کی خواہش شدت اختیار کرچکی ہے۔ ہر چیمپئن شپ کے موقع پر انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہی وقت ہے کہ وہ جیتیں گے لیکن اہم موقع پر آکر وہ ہارجاتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی حریف کا دباؤ محسوس نہیں کیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ قسمت ان پر مہربان نہیں ہوتی۔ سنوکر میں کھیل کے ساتھ ساتھ قسمت کا دخل بھی نمایاں ہوتا ہے اور وہ خوش قسمتی کے تعاقب میں ہیں۔ صالح محمد کو دوسال قبل بھارت کے پنکج اڈوانی کے ہاتھوں ورلڈ ٹائٹل نہ جیتنے کا بھی بہت افسوس ہے۔ ایشین سنوکر چیمپئن شپ کے بارے میں صالح محمد کا کہنا ہے کہ اصل امتحان ناک آؤٹ مرحلے سے شروع ہوگا۔ وہ کسی میچ کوآسان نہیں سمجھتے کیونکہ اس وقت ایشیا میں سنوکر کا معیار بہت بلند ہوچکا ہے پہلے صرف تھائی لینڈ کے کھلاڑی نمایاں ہوتے تھے لیکن اب ان کے علاوہ چین ، تائپے ، بھارت اور پاکستان کے کھلاڑیوں نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||