سنوکر: ’سکیورٹی کے خدشات نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان آئندہ ماہ 23 ویں ایشین سنوکر چیمپئن شپ کی میزبانی کررہا ہے۔گیارہ سے سترہ جون تک ہونے والی اس چیمپئن شپ میں پاکستان سمیت سولہ ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر علی اصغر ولیکا پرُیقین ہیں کہ اس مرتبہ سکیورٹی کا ایشو ان مقابلوں کے آڑے نہیں آئے گا اور وہ شاندار انداز میں ان مقابلوں کے انعقاد میں کامیاب رہیں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشین کنفیڈریشن آف بلیئرڈز سپورٹس یا کسی رکن ملک نے ابھی تک کراچی کے حالیہ واقعات کو بنیاد بناکر سکیورٹی کے خدشات ظاہر نہیں کیے ہیں لہذا چیمپئن شپ کے التواء یا کسی دوسرے شہر منتقلی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ انہیں امید ہے کہ حالات معمول کے مطابق رہیں گے اور کراچی میں سنوکر کے شائقین کو کافی عرصے کے بعد ایشیا کے بہترین کھلاڑیوں کے کھیل کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اصغرولیکا نے کہا کہ وہ پاکستان سپورٹس ٹرسٹ کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل واضح رہے کہ پاکستان میں سنوکر کو ایک سگریٹ کمپنی سالہا سال تک سپانسر کرتی رہی لیکن سپورٹس سے سگریٹ کمپنیوں کی سپانسرشپ ختم ہونے کے بعد پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کو مستقل سپانسر کی تلاش ہے اور وہ اپنے وسائل سے مقابلوں کا انعقاد کر رہی ہے۔ ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں ہر ملک کے دو دو کیوسٹس حصہ لیں گے تاہم میزبان ہونےکے ناتے پانچ کیوسٹس پاکستان کی نمائندگی کریں گے جن میں نوین پروانی، وشن گر، محمد یوسف، خرم آغا اور صالح محمد شامل ہیں۔ صالح محمد نے گزشتہ سال دوحا میں منعقدہ ایشین گیمز میں افغانستان کی نمائندگی کی تھی لیکن اب وہ ایک بار پھر پاکستان کے لیے کھیلیں گے۔ صالح محمد کو پاکستانی سکواڈ میں شامل کرنے کے بارے میں اصغرولیکا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔ کسی مجبوری کے تحت انہوں نے ایشین گیمز میں افغانستان کی نمائندگی کی تاہم پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے ان سے جواب طلب کیا جس پر انہوں نے معافی بھی مانگی۔ قواعد وضوابط کے تحت صالح محمد کو قومی چیمپئن شپ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی البتہ رینکنگ ٹورنامنٹ میں انہیں وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی اتفاق سے وہ ٹورنامنٹ انہوں نے جیت لیا جس کے بعد ان کی سابقہ شاندار کارکردگی پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں پاکستانی سکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ کا انعقاد چوتھی مرتبہ ہورہا ہے اس سے قبل یہ مقابلے 1991ء 1998ء اور2001ء میں ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے صرف ایک کھلاڑی محمد یوسف کو ایشین چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے انہوں نے1998 میں کراچی میں کامیابی حاصل کی تھی۔ محمد یوسف عالمی امیچر سنوکر ٹائٹل جیتنے والے بھی واحد پاکستانی کیوسٹ ہیں۔ |
اسی بارے میں ورلڈ سنوکر، پاکستان آئندہ میزبان 03 December, 2004 | کھیل ایشین سنوکر، سیڈنگ اور ڈراز08 July, 2005 | کھیل صالح ، یوسف ایشیئن سنوکر میں18 July, 2005 | کھیل پاکستانی خواتین ورلڈ سنوکر میں13 September, 2005 | کھیل ایشین سنوکر: پاکستان کی عمدہ کارکردگی 08 June, 2004 | کھیل عالمی سنوکر: محمد یوسف ہارگئے25 August, 2005 | کھیل سنوکر اور سکیورٹی کے خدشات20 November, 2004 | کھیل پاکستان ایشین سنوکر سے آؤٹ09 June, 2004 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||