ایڈز: علاج ابھی ممکن نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نوبل انعام یافتہ ماہر حیاتیات کا کہنا ہے کہ بیس سال کی تحقیق کے بعد بھی سائنسدان ابھی تک ایڈز کی کوئی ویکسین بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ امریکی پروفیسر ڈیوڈ بالٹیمور کے مطابق سائنسدان اس سلسلے میں خاصی مایوسی کا شکار ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسدانوں نے اپنی کوششیں ترک کر دی ہیں۔’یہ تو سمجھ آتی ہے کہ ہمیں ایڈز کی ویکسین بنانے میں کامیابی کیوں نہیں ہو سکی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس ناکامی کو قبول کر لیں۔‘ امریکن ایسوسی ایشن برائے سائنسی ترقی کے صدر پروفیسر بالٹیمور نے بوسٹن میں تنظیم کے سالانہ اجلاس میں کہا کہ ’ کچھ سال پہلے میں اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ سائنسدان برادری کو ایڈز پر قابو پانے کے کچھ نئے طریقے اپنانے پڑیں گے ورنہ یہ موضی مرض پوری دنیا میں پھیل جائے گا اور اس کا کوئی مؤثر توڑ نہیں ہوگا۔ اور ہم آج اسی موڑ پر کھڑے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز نے خود کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام سے بچائے رکھنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ ’یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ مدافعتی نظام کی بنیاد پر ایڈز کو شکست دینے کے لیے سائنسدانوں کو فطرت کے خلاف لڑنا پڑے گا۔ انہیں کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا جوگزشتہ چار ارب سالوں کے ارتقاع کے دوران قدرت نے نہ سیکھا ہو۔‘
’ مجھے یقین ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز نے انسانی مدافعتی نظام کو مکمل بے وقوف بنانے کے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں۔اس لیے ہمیں ایڈز پر قابو پانے کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ کرنا پڑے گا۔‘ صرف ایک امید ایڈز کے علاج کے لیے سائنسدان گزشتہ عرصے سے جو نئے نئے طریقے آزما رہے ہیں ان میں جین اور سٹیم سیل تھراپی جیسے طریقے شامل ہیں، تاہم ابھی تک یہ طریقے اپنی ابتدائی شکل میں ہیں۔ پروفیسر بالٹیمور کا کہنا تھا کہ ’انسانوں میں ایڈز پر قابو پانے کی ایک ہی امید رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی جسم کے بنیادی خلیوں (سٹیم سیلز) کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہم آج کل یہی کوشش کر رہے۔‘ پروفیسر بالٹیمور کا شمار ایچ آئی وی وائرس کے بڑے ماہرین میں ہوتا ہے اور انہیں انیس سو پچھہتر میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ آج کل وہ گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی معاونت سے ایک تحقیق میں مصروف ہیں جس کا مقصد ایڈز جیسی انفیکشنز کے خلاف خلیوں میں تبدیلی کر کے انسانی جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں شادی کے لیے ایڈز ٹیسٹ لازمی01 February, 2008 | انڈیا کراچی: بارہ قیدی ایڈز کے مریض09 August, 2007 | پاکستان ایڈز پر اقوام متحدہ کا معاہدہ09 June, 2007 | پاکستان ایڈز: سستی دوا کی تیاری کا معاہدہ09 May, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||