ایڈز: سستی دوا کی تیاری کا معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی فاؤنڈیشن نے دو بھارتی ادویہ کمپنیوں کے اشتراک سے ترقی پذیر ممالک کو ایڈز اور ایچ آئی وی کی کم قیمت دواؤں کی فراہمی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ’انٹی ریٹرو وائرلز‘ ادویات اس وقت اس استعمال کی جاتی ہیں جب ایچ آئی وی کے مریض کو سستی دواؤں اور ابتدائی علاج سے افاقہ نہ ہو۔ کلنٹن فاؤنڈیشن کے اس معاہدے سے ان ادویات کی قیمت میں پچیس سے پچاس فیصد کمی ہوگی جبکہ معاہدے کے تحت یہ دوائیں افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کریبیئن میں ساٹھ سے زائد ممالک کو فراہم کی جائیں گی۔ بل کلنٹن کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں ستر لاکھ افراد ایچ آئی وی اور ایڈز میں مبتلا ہیں اور ان میں اس کے علاج کی استطاعت نہیں۔ نیویارک میں تقریر کرتے ہوئے بل کلنٹن کا کہنا تھا’ایڈز کے مریضوں کے لیے روزانہ ایک گولی پر مشتمل آسان علاج کے سامنے آنے کےایک سال کے اندر ہی ہم ترقی پذیر ممالک کے مریضوں کے لیے دوا ایک ڈالر روزانہ سے بھی کم پر پیش کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ کلنٹن فاؤنڈیشن اور سپلا لیمیٹڈ اور میٹرکس لیبارٹریز لیمیٹڈ نامی بھارتی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ’تاریخی‘ ہے اور اس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں کے علاج کی لاگت میں بڑی حد تک کمی آئے گی۔ سابق امریکی صدر کے مطابق قیمت میں کمی کے لیے دونوں بھارتی کمپنیوں نے کلنٹن فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور ارزاں خام مال اور بہتر تکنیک کی مدد سے ہی ان ادویات کی سستے نرخوں پر فراہمی ممکن ہوئی ہے۔
بل کلنٹن کے مطابق اس دوا کی فراہمی سے افریقہ میں ایڈز کی روزانہ کی دوائی کے اخراجات میں پنتالیس فیصد جبکہ متعدد اوسط آمدن والے ممالک میں سڑسٹھ فیصد کی بچت ہوگی۔ ’گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا‘ کے ترجمان کنگزلے موغیلو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاہدے سے علاج کے منتظر افراد کی زندگی پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا’ ایڈز کے علاج کے دوسرے مرحلے کی ادویات بہت مہنگی ہوتی ہیں پہلے مرحلے سے قریباً دس گنا زیادہ اور اگر آپ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو کبھی کبھی یہ زندگی اور موت کا فرق بن جاتا ہے‘۔ اس وقت بھی دنیا میں ایڈز کے سات لاکھ پچاس ہزار مریضوں کا علاج بل کلنٹن فاؤنڈیشن کے تعاون سے چل رہا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت ایڈز کے چار کروڑ مریض موجود ہیں اور ستر کی دہائی میں سامنے آنے کے بعد سے اب تک ڈھائی کرور افراد اس بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں برازیل: ایڈز ادویات پر فیصلہ05 May, 2007 | آس پاس ’بھارت ایڈز کے پھیلاؤ کا مرکز‘01 December, 2006 | نیٹ سائنس گیٹس: ایڈز ریسرچ کیلیئے 287 ملین20 July, 2006 | نیٹ سائنس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس ایشیا میں ذیابیطس کا شدید خطرہ23 February, 2006 | نیٹ سائنس ختنے ایڈز سے بچاتے ہیں: رپورٹ26 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||