’بھارت ایڈز کے پھیلاؤ کا مرکز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جاری کردہ نئے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد پچاس لاکھ ستر ہزار افراد ہو گئی ہے اور یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکہ کے سابقہ صدر بل کلنٹن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت ایک ایسا مرکز ہے جو کہ دنیا بھر میں ایڈز کے انفیکشن کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس پر قابو پانا بہت بڑا چیلنج ہے‘۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے ورلڈ ایڈز ڈے کے موقع پر اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز سے کئی ملکوں میں کام کرنے والی آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز سے پینتیس لاکھ افراد ایسے ہلاک ہوئے ہیں جن کی عمر کام کرنے کی تھی۔ اس کے علاوہ ہر سال دس لاکھ سے زاہد افراد اس بیماری کا شکار ہو کر اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقہ کے صحرائے اعظم صحارا سے ہے۔ ایڈز کے عالمی دن سے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ہمیں اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے بارے میں کھل کر بات کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاستدانوں اور ہر عام و خاص کو یہ ذمہ داری لینی چاہیے کہ وہ اس بیماری کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اس مسئلے میں ہر کسی کو اپنے آپ کو جواب دہ سمجھنا چاہیے۔ کوفی عنان نے کہا کہ ’ ہم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ ایڈز کے بارے میں معلومات کو عام کرے جیسا کہ اس سلسلے میں خاموشی موت ہے‘۔ ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں کئی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں امید کی جا رہی ہے کہ جنوبی افریقہ ایڈز کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان کرے گا۔
جنوبی افریقہ میں پچاس لاکھ سے زائد افراد ایچ آئی وی کے وائرس سے متاثر ہیں اور اس بنا پر یہ ملک ان ملکوں میں سے ایک ہے جو اس بیماری سے بری طرح متاثر ہیں۔ بی بی سی کے جنوبی افریقہ میں موجود نامہ نگار پیٹر بائلز کا کہنا ہے کہ ایڈز سے متعلقہ پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے اور اب حکومت ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو ’انٹائرووائرل‘ علاج فراہم کر رہی ہے جو اس بیماری سے مقابلہ کرنے کا بہت موثر طریقہ ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے اس طرح کے علاج کو ضروری بنایا جائے تاکہ اموات کی شرح میں کمی ہو سکے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا سے کام کرنے والوں کی تعداد میں مزید ساڑھے چار کروڑ افرار کی کمی ہو جائے گی۔ اور یہ تعداد 2020 تک دوگنی ہو جائے گی اور اس سے ملکوں کی معیشت پر بہت برا اثر پڑے گا۔ | اسی بارے میں تبدیلی خون سے ایڈز17 November, 2003 | نیٹ سائنس ’مذہبی رہنماؤں کا اہم کردار ہوگا‘18 November, 2003 | نیٹ سائنس اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج19 November, 2004 | نیٹ سائنس ایڈز: مزاحمتی جینز کی شناخت09 December, 2004 | نیٹ سائنس برازیل کی دوا ساز کمپنی کو دھمکی26 June, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ21 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||