برازیل: ایڈز ادویات پر فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برازیل کے صدر نے امریکی دوا ساز کمپنی ’مرک‘ کے علاوہ کسی اور کمپنی سے ایڈز کی دوائی ’ایفاوائرینز‘ خریدنے پر پابندی ختم کر دی ہے۔ برازیل اب ’ایفاوائرینز‘ کی جینیرِک قسم کو قدرے کم قیمت پر بھارت سے درآمد کرے گا۔ برازیل کے صدر نے یہ فیصلہ امریکی کمپنی کے ساتھ دوائی کی قیمت پر مذاکرات کے ناکام ہو جانے کے بعد کیا ہے۔ مرک نے برازیل کو پیشکش کی تھی کہ وہ اس کے لیے اس دوا کی قیمت تیس فیصد کم کردے گا تاہم برازیل کا موقف تھا کہ اسے یہ دوا اسی فیمت پر ملنی چاہیے جو تھائیلینڈ کو دی جا رہی ہے۔ مرک کی پیشکش کے مطابق دوائی کی قیمت فی گولی ایک عشاریہ دس ڈالر ہوتی لیکن برازیل کا مطالبہ تھا کہ اسے تھائی لینڈ کو ملنے والی قیمت دی جائے یعنی صفر عشاریہ پینسٹھ ڈالر فی گولی۔ اب برازیل یہ دوائی بھارت سے صرف صفر عشاریہ پینتالیس ڈالر فی گولی پر درآمد کرے گا۔ صدر لویز ایناسیو لولا دا سِلوا کا کہنا تھا ’اخلاقی طور سے دیکھیں تو قیمت میں اتنا زیادہ فرق قابل مذمت بات تھی۔ اور سیاسی طور سے دیکھیں تو مرک کے اس موقف سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ برازیل کے شہری قابل احترام نہیں بلکہ ایک زیر علاج برازیلیئن کسی دوسرے ملک کے شہریوں سے کم تر ہے۔‘ برازیل کےاس فیصلے کا مطلب ہے کہ مرک کو اس دوا کی جینیرِک اقسام سے روئالٹی کے صرف ایک چھوٹی سے رقم ملے گی حالانکہ اس کے پاس اس دوا (یعنی ایفاوائرینز) کا پیٹنٹ ہے۔ عالمی ادارائے صحت کے قواعد اور برازیل کے قوانین کے مطابق کسی اور سے یہ دوائی خریدنے کے لیے لائسنس اس صورت میں جاری کیا جا سکتا ہے جب کوئی امرجنسی ہو یا پھر ادویات کی بڑی کمپنی قیمتوں کے حوالے سے نا جائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس وقت برازیل میں تقریباً 75 ہزار افراد ایفاوائرینز استعمال کر رہے ہیں۔ ان افراد سمیت پونے دو لاکھ سے زیادہ مریضوں کو برازیل کی حکومت ایڈز کی ادویات مفت فراہم کرتی ہے۔ اس سے پہلے جب تھائی لینڈ نے مرک کا ’پیٹنٹ‘ یعنی اس کی ایجاد کردہ دوائی کے قانونی حقوق کو نظر انداز کیا تھا تو امریکہ نے اس فیصلہ پر سخت تنقید کی تھی اور تھائی لینڈ کو امریکی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست پر ڈال دیا تھا۔ برازیل کے فیصلے کو ایڈز کے علاج کے لیے کام کرنے والے کارکن اور تنظیموں نے سراحا ہے۔ تاہم مرک کا کہنا ہے کہ برازیل کے اس اقدام سے دوائی ایجاد کرنے والی کمپنیوں کو ایک انتہائی منفی پیغام ملے گا اور خطرہ ہے کہ یہ کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں رائج امراض کے لیے ادویات پر تحقیق کرنا چھوڑ دیں گی۔ |
اسی بارے میں بہار: ایڈز کے مریضوں کی بدحالی29 March, 2007 | انڈیا ایڈز کی دوا سستی ہو جائے گی: کلنٹن13 January, 2006 | آس پاس پاکستان میں ایچ آئی وی کی دوا26 May, 2005 | پاکستان ایڈز کی سستی ادویات بھی موثر02 July, 2004 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||