شادی کے لیے ایڈز ٹیسٹ لازمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں ریاستی حکومت کی ایک کمیٹی نےشادی سے پہلے شادی کرنے والے جوڑے کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو اگر قانونی شکل دے دی گئی تو بھارت میں مہارشٹر پہلی ریاست بن جائے گی جہاں پر شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑے کو پہلے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانا پڑے گا۔ اس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ ایچ آئی وی ٹیسٹ کا لازمی قرار دیا جانا ایسے علاقوں میں بہت ضروری ہے جہاں ایڈز جیسی مہلک بیماری کے بارے میں لوگوں کو آگاہی حاصل نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس تجویز کو اس وقت تک لاگو نہیں کیا جائے گا کہ جب تک وسیع پیمانے پر لوگوں کی رائے معلوم نہیں کر لی جاتی۔ بھارت کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
مہاراشٹر میں شادی سے پہلے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے کی تجویز کے حامی سٹیٹ لاء گریجویٹس ایسوسی ایشن کے رکن اور وکیل جے نائر نے کہا کہ ایک ایسے معاشرے میں ایڈز کی بیماری میں مبتلا افراد کا تناسب بہت زیادہ ہے وہاں ایسا کیا جانا ضروری ہے۔ اس ایسوسی ایشن نے ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس ضمن میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور وہ ریاستی اسمبلی کو بھی ایک یادداشت پیش کرنے والی ہے۔ جے نائر نے کہا کہ ’ہمیں اس بات سے کوئی واسطہ نہیں کہ لوگ اپنی نجی زندگیوں میں کیا کرتے ہیں اور یہ اقدام ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بہت سے کیس سامنے آ رہے ہیں جہاں پر شادی سے پہلے اس بیماری کو چھپایا جاتا ہے اور شادی کر لی جاتی ہے۔ اس طرح دوسرے فریق اور بچوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس تجویز کے ایک اور حامی ریڈیو براڈکاسٹر پنکھج اتھاوالا نے کہا کہ اگر یہ تجویز قانون کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو حکام کو بہت ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ پھر ایچ آئی وی کے مریض جعلی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس تجویز کی مختلف حلقوں سے مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔
نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کی طرف سے واضع کردہ رہنما اصولوں کے مطابق کسی شہری کو لازمی طور پر ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور ملازمتوں اور طبی سہولیات کی فراہمی کو اس سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے اسی صورت میں ٹیسٹ کروانا چاہیے جب دونوں فریق اس پر متفق ہوں۔ انسانی حقوق کی وکیل سدھارتا نارائین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کو ماننے کے لیے تیار نہیں جو لوگوں کو کسی خاص ٹیسٹ کروانے کے لیے مجبور کرتا ہو۔ مینجمنٹ ایگزیکٹو پرجاکتا بنگالی کا کہنا تھا کہ اس تجویز کے سماجی طور پر قبول کیئے جانے میں بہت وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کئی کئی مرتبہ جنم کنڈلیاں اور ذائچے نکلوالیں گے لیکن یہ ٹیسٹ کروانے پر راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ شہروں میں پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے لوگوں کو بھی اس مسئلہ پر بات چیت کرنے میں دشواری ہو گی اور یہ قانون نافذ کرنا ناممکن ہو گا۔ شمالی ممبئی میں ایک عوامی طبی مرکز میں کام کرنے والی کمزور اور لاغر سی سریتا کا جو ان کا اصلی نام نہیں ہے اور جو پانچ سال پہلے ایچ آئی وی وائس کا شکار ہوئی تھیں کہنا تھا کہ کاش شادی سے پہلے ان کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروا لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خواند نے انہیں اپنی بیماری کے بارے میں نہیں بتایا اور ایک سرکاری ہسپتال میں اچھوتوں کی طرح ایڈز کے مرض سے ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے شوہر کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تو انہیں بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے کو کہا گیا اور اس وقت تک وہ اس وائرس کا شکار ہو چکی تھیں۔ انہوں نے کہا گزشتہ چند سالوں میں انہیں خاندان والوں نے چھوڑ دیا ہے اور ان کی زندگی تباہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور دھوکہ کرنے والا شخص اب دنیا میں نہیں رہا۔ کاش یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا۔‘ |
اسی بارے میں ایڈز بیٹی ملنے میں رکاوٹ 27 September, 2007 | انڈیا ایچ آئی وی کے مریضوں کی حالتِ زار17 October, 2007 | انڈیا ایڈز کے مریض کی تعداد میں کمی 22 November, 2007 | انڈیا بہار، ایڈزمتاثرین میں اضافہ01 December, 2007 | انڈیا ایڈز: مریضوں کی پکار کون سنے گا01 December, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||