ایڈز کے مریض کی تعداد میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان ميں اس وقت تقریباً پچیس لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برس عالمی ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے ستاون لاکھ کے اندازے سے آدھے سے بھی کم ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق ہندوستان میں متاثرہ افراد کی تعداد اب بھی نوجوانوں کی کل تعداد کا 0.36 فی صد ہے لیکن ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام مریضوں کے حساب سے ہندوستان جنوبی افریقہ اور نائجیرا کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں اقوام متحدہ کےایڈز کے ادارے کے سربراہ ڈینس براؤن نے بھوپال میں بی بی سی کو بتایا کہ کُل متاثرہ افراد کے اندازے میں کمی ہونا ایک اچھا اشارہ ہے، لیکن متاثرہ افراد کی بنیاد پر ابھی بھی دنیا کے ملکوں میں ہندوستان کا تیسرے مقام پر ہونا اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی اس برس کی رپورٹ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اپنی گزشتہ رپورٹ سے ستر لاکھ کم بتائي ہے۔ ڈینس براؤن نے کہا کہ حالیہ رپورٹ ایک لاکھ لوگوں کے خون کے نمونوں کی بنیاد پر تیار گئے جائزوں پر مبنی ہے جو پچھلے سروے سے مختلف ہے۔ پچھلا سروے ہندوستان کے چند ہسپتالوں میں آنے والی حاملہ عورتوں کے خون کے نمونوں کی بنیاد پر کیا گيا تھا۔ یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ حالانکہ ہندوستان کی بعض جنوبی ریاستوں میں ان خواتین میں ایچ آئي وی پوزیٹیو ہونے کے معاملات میں کمی آئی ہے جو حمل کے دوران معائنے کے لیے ہسپتالوں میں آتی ہیں، لیکن ہم جنس رشتے رکھنے والے مردوں اور انجکشن کے ذریعے منشیات لینے والوں میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو تشویش ناک ہے۔ ادارے کے دعوی ہے کہ جنوبی ریاستوں میں جسم فروشی کرنے والوں کے درمیان ایچ آئی وی کے سلسلے میں بیداری پیدا کی گئی ہے جس کے سبب نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ لیکن پورے ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے۔ یو این ایڈز کے انڈیا کے سربراہ کا خیال ہے کہ جو لوگ سکولوں میں جنسی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کا اس خوفناک بیماری سے لڑنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن میں جہاں بہت چھوٹی عمر سے جنسی تعلیم دی جاتی ہے وہاں نہ صرف ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہے بلکہ دیگر جنسی بیماریاں اور کم عمر میں حاملہ ہونے والی لڑکیوں کی تعداد میں بھی کمی پائی گئی ہے۔ حالانکہ انکا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ علاقائی اور مقامی اقدار اور رسم و رواج کو ذہن میں رکھ کر اپنے پروگرام میں تبدیلیاں لائے گا لیکن یہاں اہم بات یہ بھی ہے کہ حالیہ برسوں میں ہر جگہ اقدار اور خیالات میں زبردست تبدیلیاں آئی ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا: ایڈز کے مریض کم ہو گئے06 July, 2007 | انڈیا کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ01 December, 2006 | انڈیا بہار: ایڈز مریضوں میں پانچ گنا اضافہ11 June, 2006 | انڈیا ایڈز: انڈیا میں سب سے زیادہ30 May, 2006 | انڈیا سیکس پر کھل کر بات کریں: منموہن01 December, 2005 | انڈیا بھارتی افواج: ایڈز کا ٹیسٹ لازمی12 September, 2005 | انڈیا ’تعداد پرنہیں ایڈز پرتوجہ دیں‘02 June, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||