BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 July, 2007, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: ایڈز کے مریض کم ہو گئے

فائل فوٹو
وزیر صحت نے بتایا کہ ملک میں خون کی جانچ کے مراکز کھولے جائیں گے
ہندوستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد پچاس لاکھ سے کم ہو کرتقریباً پچیس لاکھ ہو گئی ہے۔ اس طرح انڈیا اب دنیا میں ایڈز سے متاثر افراد کی فہرست میں دوسرے سے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

مرکزی وزیر صحت امبومنی رام ڈاس نے دلی میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تیسرے مرحلے کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ اس سے قبل جس طریقے سے اعداد وشمار حاصل کیے گئے تھے اس میں کافی نقائص تھے تاہم اس مرتبہ اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیے بہتر طریقہ استعمال میں لایا گیا ہے۔

مسٹر رام ڈاس نے بتایا کہ نئے طریقہ کار میں اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیے دو اہم ذرائع کا استعمال کیا گیا ہے جن میں سے ایک ذریعہ نگرانی مراکز ہیں جن کی تعداد 703 سے بڑھ کر 1122 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس سال نیشنل فیملی ہیلتھ سروے سے بھی اضافی اعداد و شمار حاصل کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنیاد پر اس مرتبہ ایڈز کے مریضوں کے اعداد و شمار مستند طریقہ سے جمع کرنا ممکن ہو سکا ہے۔ نئے اعدادو شمار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت کا کہنا تھا:’اس کمی پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ متاثرہ افراد کی تعداد اب بھی کافی زیادہ ہے جو قابل تشویش ہے اور اس کے لیے ہمیں لمبی لڑائی لڑنی ہے‘۔

انڈیا میں ایڈز کے مرض سے بیداری کی کئی مہمیں چلائی گئی ہیں

گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی کروڑ روپے کے تیسرے دور کے اس منصوبے کے تحت لوگوں میں بیداری مہم کے ساتھ ہی مفت کنڈوم کی تقسیم پر زور دیا جائے گا۔

وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں خون کی جانچ کے مراکز کھولے جائیں گے اور خون کو محفوظ کرنے کے لیے جدید طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

رام ڈاس کے مطابق ریاست کرناٹک کے ضلع دھاروار میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے زيادہ ہے۔

انہوں نے ریاست آندھرا پردیش کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اور تمل ناڈو میں حالات بہتر ہوئے ہیں جو نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے دوسرے مرحلوں کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

حال ہی میں میرٹھ کے ایک ہسپتال میں داخل ایچ آئی وی کی ایک حاملہ خاتون کی زچگی کرنے سے ڈاکٹروں نے انکار کر دیا تھا۔ کیرالا کے ایک سکول میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کو سکول والوں نے پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان معاملات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے ڈاکٹروں سمیت عوام سے اپیل کی کہ وہ ان افراد کے ساتھ تفریق برتنے کے بجائے ہمدردانہ رویہ اپنائیں۔

ایڈسایڈس جانچ کاطریقہ
ایڈس سےمتاثرہ افراد کی تعداد پرکئی سوال ہیں
اب تنہا نہیں۔۔
گجرات میں ایڈز کے مریضوں کی شادی
ایڈزبھارت میں ایچ آئی وی
ایڈز کا جرثومہ بھارتیوں کے لیے زیادہ خطرناک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد