انڈیا: ایڈز کے مریض کم ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد پچاس لاکھ سے کم ہو کرتقریباً پچیس لاکھ ہو گئی ہے۔ اس طرح انڈیا اب دنیا میں ایڈز سے متاثر افراد کی فہرست میں دوسرے سے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ مرکزی وزیر صحت امبومنی رام ڈاس نے دلی میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تیسرے مرحلے کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ اس سے قبل جس طریقے سے اعداد وشمار حاصل کیے گئے تھے اس میں کافی نقائص تھے تاہم اس مرتبہ اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیے بہتر طریقہ استعمال میں لایا گیا ہے۔ مسٹر رام ڈاس نے بتایا کہ نئے طریقہ کار میں اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیے دو اہم ذرائع کا استعمال کیا گیا ہے جن میں سے ایک ذریعہ نگرانی مراکز ہیں جن کی تعداد 703 سے بڑھ کر 1122 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس سال نیشنل فیملی ہیلتھ سروے سے بھی اضافی اعداد و شمار حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنیاد پر اس مرتبہ ایڈز کے مریضوں کے اعداد و شمار مستند طریقہ سے جمع کرنا ممکن ہو سکا ہے۔ نئے اعدادو شمار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت کا کہنا تھا:’اس کمی پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ متاثرہ افراد کی تعداد اب بھی کافی زیادہ ہے جو قابل تشویش ہے اور اس کے لیے ہمیں لمبی لڑائی لڑنی ہے‘۔
گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی کروڑ روپے کے تیسرے دور کے اس منصوبے کے تحت لوگوں میں بیداری مہم کے ساتھ ہی مفت کنڈوم کی تقسیم پر زور دیا جائے گا۔ وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں خون کی جانچ کے مراکز کھولے جائیں گے اور خون کو محفوظ کرنے کے لیے جدید طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ رام ڈاس کے مطابق ریاست کرناٹک کے ضلع دھاروار میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے زيادہ ہے۔ انہوں نے ریاست آندھرا پردیش کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اور تمل ناڈو میں حالات بہتر ہوئے ہیں جو نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے دوسرے مرحلوں کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ حال ہی میں میرٹھ کے ایک ہسپتال میں داخل ایچ آئی وی کی ایک حاملہ خاتون کی زچگی کرنے سے ڈاکٹروں نے انکار کر دیا تھا۔ کیرالا کے ایک سکول میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کو سکول والوں نے پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان معاملات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے ڈاکٹروں سمیت عوام سے اپیل کی کہ وہ ان افراد کے ساتھ تفریق برتنے کے بجائے ہمدردانہ رویہ اپنائیں۔ |
اسی بارے میں ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے01 December, 2005 | انڈیا بہار: ایڈز مریضوں میں پانچ گنا اضافہ11 June, 2006 | انڈیا ’ایڈز کے مریضوں کی تنہائی ختم‘ 03 October, 2006 | انڈیا بھارت میں ایڈز کا پھیلاؤ کتنا؟13 December, 2006 | انڈیا شادی کے لیے ایڈز ٹیسٹ ضروری19 December, 2006 | انڈیا انسانی سمگلنگ،ایڈز ٹسیٹ، مطمئن جنسی زندگی22 April, 2007 | انڈیا بِہار ایڈز:’مریضوں میں باون فیصد اضافہ‘23 May, 2007 | انڈیا بھارت:ایڈز متاثرین کی تعداد پرشبہ09 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||