ایڈز: مریضوں کی پکار کون سنے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیس سال کی عمر میں فوزیہ کی شادی ہوئی اور شادی کے ایک سال بعد پتہ چلا کہ شوہر ایڈز کا شکار ہو چکا ہے۔ فوزیہ کے والدین کو اس کی اطلاع ملی تو وہ اسے اپنے گھر واپس لے آئے۔ طبی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ وہ بھی ایچ آئی وی پازیٹیو ہو چکی ہے۔ فوزیہ کی مرضی کے خلاف اس کے گھر والوں نے طلاق کا مطالبہ کیا اور آخر کار طلاق لے لی گئی۔ شوہر شادی کے ٹوٹنے کے بعد شراب پینے لگا ہے اور فوزیہ اپنے گھر میں محصور ہے۔’میں کہیں نہیں جاتی کیونکہ لوگوں کی نظریں مجھے برداشت نہیں کرتیں۔ رشتیدار بھی جب آتے ہیں تو کوئی میرے پاس بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا‘۔ رضا زیدی پیشے سے انجینئر تھے۔ خوبصورت بیوی اور دو پیاری بچیوں کے باپ، جب انہیں پتہ چلا کہ وہ ایڈز میں مبتلا ہيں اور ان کی بیوی بھی اس بیماری کا شکار ہو گئی ہے تو انہیں اپنی بیٹیوں کی فکر ہوئی کیونکہ وہ دونوں صحت مند تھیں۔
زیدی نے اپنے بھائیوں کو اپنی بیماری کے بارے میں بتایا اور یہی کہنا ان کے لیے قہر ہوگيا ۔بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں نے ان سے ناطہ توڑ لیا۔ ان کا سماجی بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ایک روز زیدی نے اپنی بیوی کی مرضی حاصل کی، بیوی کے ساتھ بچیوں کو زہر دیا اور خود بھی زہر کھا لیا۔ لیکن موت زیدی پر مہربان تھی اور وہ بچ گئے۔ پولس کیس ہوا۔ زیدی ہسپتال میں علاج کےلیے داخل کیے گئے لیکن کوئی رشتہ دار حال پوچھنے نہیں آیا۔ بگڑتی حالت دیکھ کر ہسپتال والوں نے بھی گھر بھیج دیا۔ وہ بظاہر اپنےگھر میں قید ہو کر رہ گئے۔ دروازے سے کھانے کی پلیٹ اور دوائیاں اندر ڈال دی جاتیں۔ اور جب ان کی موت ہوئی تو گھر میں کوئی نہيں گیا۔ شانتا بھاٹکر کے شوہر کی موت ایڈز کی وجہ سے ہو گئی۔ بھاٹکر اور اس کا بیٹا بھی اب ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔ شوہر کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے ماں بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔بھاٹکر اب اے آر ٹی سینٹر میں کاؤنسلنگ کرتی ہے جہاں سے دوائیں مفت مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ماہانہ اتنا پیسہ مل جاتا ہے کہ گھر کا خرچ چل جائے۔ ملک میں زیادہ تر ایچ آئی وی پازیٹیو بیواؤں کو ان کے شوہر کی موت کے بعد سسرال والے گھر سے نکال دیتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اس طرح اپنی ذمہ داریوں سے منہہ موڑنے کے ساتھ ان کی جائیداد پر بھی قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ ممبئی ڈسٹرکٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کی جوائنٹ ڈائرکٹر شیتل پاٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے کئی کیس ان تک پہنچتے ہیں۔ لوگوں کو صلاح مشورہ دینے کے لیے ہر ART سینٹر پر کاؤنسلر موجود ہوتے ہیں جو مریضوں میں جینے کی اُمنگ پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر پاٹل کا کہنا ہے کہ’ ہم ایڈز کی روک تھام کے لیے ایڈز بیداری مہم چلا رہے ہیں اور ایچ آئی وی پازیٹیو مریضوں کے علاج کے لیے دوائیں مفت فراہم کی جاتی ہے لیکن جب تک سماج میں لوگوں کا نظریہ نہیں بدلتا، حالات بدلنا بہت مشکل ہے کیونکہ ایسے مریضوں کو لوگوں کی محبت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے‘۔
ممبئی میں ایڈز بیداری مہم کے ڈائرکٹر ڈاکٹر موہن والچا کے مطابق ان پڑھ لوگوں کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ طبقہ بھی یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ چھونے سے ایڈز کی بیماری نہيں ہوتی اور ان کا رویہ ایسے مریضوں کے تئیں بہت برا ہوتا۔دواؤں کے ساتھ ساتھ سماجی بیداری بہت ضروری ہے۔ نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بیس لاکھ پچاس ہزار کے قریب ایڈز کے مریض ہیں۔ ممبئی ڈسٹرکٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ساٹھ ہزار ہے لیکن دو لاکھ پچاسی ہزار ایچ آئی وی پازیٹیومتاثرہ افراد ہیں۔ ڈاکٹر والچا کے مطابق عورتوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کیس کم ہوں اگر وہ اپنے شوہروں سے محفوظ سیکس کا مطالبہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک لوگ کنڈوم مانگنے سے کتراتے ہیں اس لیے ان کے ہر سینٹر پر دروازے کے پاس ہی اس کا ذخیرہ رکھ دیا جاتا ہے۔ فوزیہ ، زیدی اور بھاٹکر جیسے سیکڑوں کیس ہیں۔جو سماج کی بے اعتنائی نفرت کا شکار ہیں۔ یہ نفرت اس وقت کم ہو سکتی ہے جب لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں کہ ایڈز بھی ایک بیماری ہے اور لوگ اپنی محبت اور ہمدردی سے زندگی کی لڑائی لڑنے میں متاثرہ افراد کی مدد کر سکتے ہیں ۔ ( مریضوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں ) |
اسی بارے میں ایڈز کے مریض کی تعداد میں کمی 22 November, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا بِہار ایڈز:’مریضوں میں باون فیصد اضافہ‘23 May, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی بدحالی29 March, 2007 | انڈیا ایڈز اب بھارت کے دیہاتوں میں بھی01 December, 2006 | انڈیا کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ01 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||