BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 06:21 GMT 11:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سڈنی: ایچ آئی وی پر عالمی کانفرنس
کچھ افریقی ممالک کی بالغ آبادی کا 40 فیصد انفیکشن سے متاثر ہے
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایچ آئی وی/ایڈز پر دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں پانچ ہزار سے زائد مندوبین کے سامنے اس تحقیق کے شواہد پیش کیے جائیں گے کہ مردوں کے ختنہ کروانے سے ایچ آئی وی انفیکشن کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہو جاتا ہے۔

یہ بات تو کافی عرصے سے عام ہے کہ افریقہ کے صحرائے صحارا سے متعلقہ علاقے کے مسلمان مردوں میں ایچ آئی وی کی شرح غیر مسلموں کے مقابلے میں کم ہے تاہم اب تک یہ واضع نہیں تھا کہ اس کی وجہ ختنہ کروانا ہے یا کم جنسی اختلاط۔

اب کینیا اور یوگنڈا سے ملنے والے نئے شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوانوں کے ختنہ کروانے سے ایچ آئی وی کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق میں کینیا اور یوگنڈا کے دو ہزار مردوں نے حصہ لیا جن میں سے نصف ختنہ شدہ تھے۔

افریقہ میں صحرائے سہارا سے جڑے کچھ ممالک کی بالغ آبادی میں ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثرہ افراد کی شرح چالیس فیصد تک ہے اور وہاں ختنہ کو اس انفیکشن کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے بطور اہم ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اب تک دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد ایڈز کا شکار ہو چکے ہیں

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ختنہ کا عمل تجربہ کار جراحوں کو انجام دینا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اس بارے میں تعلیم دینے کی بھی ضرورت ہے۔

سڈنی میں ہونے والی کانفرنس میں شامل ایک سو تیس ممالک کے مندوبین پر ایچ آئی وی پر تحقیق میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلامیے پر دستخط کرنے کے لیے بھی زور دیا جائےگا۔

سڈنی اعلامیے میں شامل اہم تجویز کے مطابق ایچ آئی وی پروگرامزکے لیے مختص رقم کا کم از کم دس فیصد تحقیق کے میدان میں خرچ کیا جانا چاہیے۔

اعلامیے میں حکومتوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ایڈز جیسے موذی مرض سے نمٹنے کے لیے مزید وسائل مختص کریں تاکہ نئی ادویات کی تیاری، مرض کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے مزید بہتر کام کیا جا سکے اور اب تک دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد کو ہلاک کرنے والی اس بیماری پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں
خواتین کے لیے خاص قسم کا کنڈوم
31 December, 2006 | نیٹ سائنس
پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ
21 November, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد