خواتین کے لیے خاص قسم کا کنڈوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سائنس داں ایک ایسا کیمیائی کنڈوم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو خواتین کو ایچ آئی وی ایڈز سے بچانے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اتھان یونیورسٹی میں ماہرین نےایک ایسا پیسٹ تیار کیا ہے جسے اندام نہانی کے اندر لگانے سے وہ جیل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ منی سے ربط ہونے پر یہ جیل مایہ کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے اوراینٹی وائرل کا کام کرتاہے جو ایچ آئي وی وائرس کومار دیتے ہیں۔ ابھی اس تکنیک اور دوا کا استمعال انسانوں پر نہیں کیا گیا ہے اور ماہرین کے مطابق اس میں مزید پانچ برس کا وقت لگے گا۔ محقیقین کا کہنا ہےکہ آئندہ دس برس میں یہ فارمولہ عام استعمال میں آسکتا ہے۔ ڈاکٹر پیٹرک کزر کا کہنا ہے ’اس ٹیکنالوجی سے خواتین اور انکے نوزائدہ بچوں کو ایڈز کے خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے گا۔‘ یونیورسٹی میں ایڈز اور دیگرجنسی امراض کے تحفظ کے لیے جیل، سپنجیز اور کریم جیسے فارمولے تیار کرنے پر ریسرچ ہورہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ممالک جہاں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے، زنابالجبرکے واقعات عام ہیں، کنڈوم استعمال نہیں کئے جاتے یا آسانی سے دستیاب نہیں ہیں وہاں خواتین کے لیے ایڈز سے بچنے کے لیے یہ فارمولہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ ابھی جس فارمولے پر کام ہورہا ہے وہ بازار میں پہلےآئیگا لیکن وہ کم موثر ہے۔ ڈاکٹر کیزر کے مطابق اسے جنسی فعل سے عین قبل استمال کرنا ہوگا۔ تاہم کیزر کا کہنا ہے ٹیم موثرترین فارمولہ تیار کر رہی ہے۔' ہم ایک ایسے سسٹم پر کام کر رہے ہیں جوایک دن یا ایک ماہ میں ایک باراستمعال کرنا ہی کافی ہوگا۔‘ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اندام نہانی میں اس پیسٹ کے لگانے سے کوئی ایسا نقصان نہیں ہوگا جس سے انفیکشن پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔لیکن ابھی اس بات کی جانچ ہونی ہے کہ جیل میں جو اینٹی وائرل دوا ہے وہ لیب ہی کی طرح خواتین میں بھی موثر ہے یا اندر اس کے اثرات کم ہوجاتے ہیں۔ نیشنل ایڈزکے یوسف آزاد کا کہنا ہے ’ بیشتر خواتین کاجنسی صحت پر کنٹرول نہیں ہے لیکن اس فارمولہ سے بہت سی چیزیں ان کے اختیار میں ہوجائیں گی۔‘ انکے مطابق اس بات کی ضرورت ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ رقم لگائی تاکہ یہ دوا جیلز، مایہ اور کریم جیسی مختلف اشکال میں پیش کی جاسکے اور خواتین اپنی مرضی و سہولت کے مطابق اسے استعمال کر سکیں۔ | اسی بارے میں کونڈوم انڈین مردوں کے لیے بڑے08 December, 2006 | انڈیا کنڈوم سےشرم مٹاؤ مہم کا آغاز03 November, 2006 | انڈیا بنارسی دریافت، کنڈوم کانیااستعمال30 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||