BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 June, 2007, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لکھنؤ میں خواتین کے لیے کنڈوم

انڈیا میں ایڈز کے بارے میں بیداری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں
ہندوستان میں غیرضروری حمل یا ایچ آئی وی اور ایڈز سے بچنے کے لیے عورتوں کے لیے خاص کنڈوم کے استعمال کا رجحان نہیں ہے۔ تاہم بعض دیہی علاقوں میں ایک کامیاب تجربہ کے بعد لکھنؤ کے ترقیاتی بلاک چنہٹ اور سروجنی نگر میں عورتوں کو کنڈوم مہیا کرانے کا پروجیکٹ شروع کیا جارہا ہے۔

اس خاص کنڈوم کے بارے میں خواتین اور مردوں میں پائی جانے والی ہچکچاہٹ دور کرنے کے لیے بیداری مہم بھی چلا ئی جائےگی۔

اس پروجکٹ کا آغاز سن دو ہزار چھ میں ضلع لکھیم پور میں ہوا تھا جہاں سوا برس کے اندر پندرہ سو کنڈوم فروخت ہوئے تھے۔ سیلف ہیلپ گروپ کی رکن خواتین مانع حمل تدابیر میں دلچسپی لینے والی عورتوں کو اس کنڈوم کے متعلق بتاتی ہیں اور اس سے متعلقہ لٹریچر بھی دیتی ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مقامی انچارج اے کے سوم نے بتایا کہ یہ کنڈوم برطانیہ سے برآمد کیے جائیں گے اور مقامی سطح پر اس کی قیمت پانچ روپے ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ خاندانی بہبود اور خواتین کی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں مہم چلانے والی رضاکار تنظیموں کے ساتھ میٹنگ کر کے لکھنؤ میں پروجیکٹ شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

لکھیم پور میں پروجیکٹ سے وابستہ ایک خاتون راما دیوی نے بتایا: ’اس کے لیے مردوں کی بڑی تعداد نے بھی اپنی بیویوں کی حوصلہ افزائی کی جس کے سبب یہاں کنڈوم کا چلن شروع ہوپایا۔ شاید وہ خود کنڈوم استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ اسے اپنی مردانگی کے خلاف سمجھتے ہیں۔‘

راما دیوی کے مطابق شروع میں عورتیں یہ شکایت لے کر آتی تھیں کہ کنڈوم آرام دہ نہیں ہیں اور مہنگے بھی ہیں لیکن مردوں کے کہنے پر وہ دھیرے دھیرے عادی ہوگئیں۔

راہی فاؤنڈیشن کے دنیش شرما نے بتایا کہ عورتوں کے لیے مخصوص کنڈوم کے ساتھ ایک میڈیکل کِٹ ہوگی جس میں او آر ایس پیکٹ، ملٹی وٹامن آئرن کی گولیاں اور لٹریچر ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں اور کچی بستیوں میں مردوں میں کنڈوم کے استعمال کا رجحان شہروں کے مقابلہ کم ہے لیکن عورتوں کے کنڈوم کے معاملہ میں لکھیم پور کا تجربہ دلچسپ اور ہمت افزا رہا ہے۔ لکھنؤ میں کامیابی ملنے پر اسے دوسرے شہری علاقوں میں دہرایا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد