جی ایٹ ایڈز کیلیے امداد پر متفق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جی ایٹ ممالک کے سربراہی اجلاس کے شرکاء افریقہ میں ایڈز، ملیریا اور ٹی بی پر قابو پانے کے لیے ساٹھ ارب ڈالر مختص کرنے پر رضامند ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس رقم کا نصف اقوام متحدہ فراہم کرے گا۔ جرمنی میں سربراہ اجلاس کے آخری دن جمعہ کو آٹھ امیر ترین ممالک کے سربراہوں نے اپنے دو ہزار پانچ کے اجلاس میں کیے گئے امداد کے وعدے نبھانے کا بھی عہد کیا ہے۔ لیکن امدادی ادراوں کا کہنا ہے کہ انہیں اجلاس کے فیصلوں سے مایوسی ہوئی ہے۔ برطانوی امدادی ادارے آکسفیم کا کہنا تھا کہ اصل میں صرف تیس ارب کی رقم نئی ہے کیونکہ بقیہ تیس ارب تو پہلے ہی مختص کیے جا چکے تھے۔ افریقہ میں بیماریوں پر قابو پانے کے لیے رقم مختص کرنے سے قبل اجلاس کے شرکاء نے مضر گیسوں کے اخراج میں ’واضح‘ کمی کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ امریکی صدر جارج بُش پیٹ میں گڑ بڑ کی وجہ سے جمعہ کی کارروائی کے ابتدائی چندگھنٹوں میں شرکت نہیں کر سکے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں کئی دیگر موضوعات پر بھی بات کی گئی ہے، جس کے مطابق:
صدر بُش نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ امریکی افریقہ میں امراض پر قابو پانے کے لیے تیس ارب ڈالر دے گا اور سفارتکاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جی ایٹ اجلاس میں اس مقصد کے لیے مختص کی جانے والی ساٹھ ارب ڈالر کی رقم کا نصف اصل میں یہی تیس ارب ڈالر ہیں۔ کچھ امدادی ادارے اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے افریقہ کے لیے امدادی مہم کے سرکردہ رکن اور مشہور آئرش راک گلوکار بونو نے کہا ’مجھے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کے امدادی رقم کے معاملے کو جان بوجھ کر گومگوں میں رکھا گیا ہے۔‘ سٹاپ ایڈ کمپین (یا امداد کی مہم بند کرو) نامی تنظیم کے سٹیو کاکبرن کا اس سلسے میں کہا تھا ’اگرچہ ایڈز کے لیے مزید رقم دینے سے لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں گی لیکن اس سے افریقہ میں لوگوں کے جذبے کو ابھرنے سے روک دیا جائے گا اور اُس سے لاکھوں مزید اموات ہوں گی۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رُوبن کا کہنا ہے کہ کئی دیگر امدادی اداروں کے مطابق جی ایٹ کے رکن ممالک نے اپنے وہ عہد پورے نہیں کیے جن کا اقرار انہوں نے سنہ دو ہزار پانچ کے اجلاس میں کیا تھا۔ تاہم نامہ نگار کے مطابق اجلاس کے شرکاء ایک اعلامیہ پر متفق ضرور ہوئے ہیں جس کے تحت اگلے سال جاپان میں ہونے والے اجلاس میں افریقہ ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔ اور دوسرا مثبت پہلو یہ ہے کہ کافی بحث کے بعد آٹھوں ممالک اس سال افریقہ میں تعلیم پر اخراجات میں پانچ سو ملین ڈالر کی جو کمی تھی اسے پورا کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ جرمنی میں ’زبردست پیش رفت‘ ہوئی ہے اور اجلاس کے شرکاء نےگزشتہ سال کے وعدے پورا کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ تا ہم ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ یہ اہداف کیسے حاصل کیے جائیں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||