 | | | سربراہ اجلاس سے قبل امریکہ اور جرمنی میں آب و ہوا کے معاملے میں نمایاں اختلافات تھے۔ |
جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ جی ایٹ راہنما آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق سمجھوتے پر متفق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہم نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ پہلے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو روکا جانا چاہیئے اور اس کے بعد اس میں کافی حد تک کمی کرنی چاہیئے۔ اطلاعات کے مطابق راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے طے کردہ اصولوں کے اندر رہتے ہوئے کیوٹو پروٹوکول کا متبادل تلاش کیا جائے گا۔ مسز مرکل کی کوشش تھی کہ دوہزار پچاس تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں پچاس فیصد کمی لائی جائے۔ تاہم امریکہ کسی قسم کے اہداف مقرر کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایٹ راہنما ان کے تجویز کردہ ہدف پر غور کریں گے مگر سرِدست ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ اس پر لازمی طور پر عمل بھی ہوگا۔ جرمنی اس سمجھوتے کو خاصی بڑی پیش رفت گردانتا ہے۔ جی ایٹ کے رہنماؤں کی جرمنی میں آمد سے قبل ہی امریکہ نے انکار کردیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کم کرنے کے کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرے گا جس کے اہداف سخت ہیں۔ جرمنی اس سال ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی ایٹ کی سربراہی کررہا ہے۔ جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکیل کی پوری کوشش تھی کہ ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدے پر رکن ممالک اتفاق کرلیں۔بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبِنس کا کہنا ہے کہ دنیا کے طاقتور رہنماؤں کی ملاقاتیں مشکل ہوتی ہیں لیکن یہ ملاقات کچھ زیادہ ہی مشکل ہے۔ |