BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 June, 2007, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: کنڈومز مہم کی کامیابی کا راز

فحش فلمیں
کنڈوم یا تو غیر سرکاری تنظیم کے کارکن دیتے ہیں یا پھر ٹکٹ کھڑکی اور پان کی دکانوں پر فروخت کیے جاتے ہیں
بھارت میں محکمۂ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے سنیما گھروں میں جہاں فحش فلموں کی نمائش ہو رہی ہو وہاں کنڈوم تقسیم کرنے کی مہم کافی کامیاب رہی ہے۔

ایک برس قبل شروع کی گئی اس مہم کے بارے میں ریاست گجرات کے سورت شہر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ مہم ایڈز اور ایچ آئی وی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔


اہلکاروں کے مطابق مہم شروع کرنے سے قبل کیے گئے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ جو لوگ اس بیمارں سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں وہ فحش فلمیں دیکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

سورت شہر ميں آس پاس کے علاقوں سے ایک بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر کے ہیروں کی فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملز میں مزدوری کرنے آتے ہیں۔

یوں تو گجرات ایڈز اور ایچ آئی وی جیسی بیماری کے پھیلاؤ کے اعتبار سے ’حساس‘ ریاست نہیں ہے لیکن سال 2004 میں ملک کے قومی ایڈز کنٹرول تنظیم کے مطابق ریاست میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔

سورت کے میونسپل کارپوریشن کی پروجیکٹ منیجر سنہلتا بھاٹیا نے بتایا کہ ’ہم پہلے ہی ہیرے کی صنعت اور بلڈرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کر رہے تھے اور جب اس بات کا پتہ چلا کہ ایک بڑی تعداد میں مزدور سنیماگھروں میں فحش فلمیں دیکھنے جا رہے ہیں تو ہم نے ان سنیماگھروں کے منتظمیں سے رابطہ قائم کیا‘۔

ان سنیماگھروں میں 20 سے 30 روپے میں فحش فلمیں دیکھی جا سکتی ہیں اور ایسی فلموں کے شوقین مزدور آسانی سے یہ رقم ادا کرسکتے ہیں۔

سرگم مانو سیوا چیریٹیبل ٹرسٹ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے رکن دنیش پرجا پتی نے بتایا کہ ’جو مزدور اس قسم کی فلمیں دیکھنے آتے ہیں وہ ان سنیما گھروں کے آس پاس گھومنے والی جسم فروشوں کو یا تو سنیما گھروں ہی میں لے جاتے ہیں یا کسی قریبی گیسٹ ہاؤس میں‘۔

لوگ اب کنڈوم میں ہچکچاتے نہیں
 اب لوگ کنڈوم خریدنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ جنسی امراض سے متعلق صلاح و مشورے کے لیے سماجی کارکنوں کے پاس بھی آتے ہیں
دنیش پرجا پتی

ان مزدوروں کو یہ کنڈوم یا تو غیر سرکاری تنظیم کے کارکن دیتے ہیں یا پھر ٹکٹ کھڑکی اور پان کی دکانوں پر فروخت کیے جاتے ہیں۔

دنیش پرجاپتی نے بتایا کہ ’اب لوگ کنڈوم خریدنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ جنسی امراض سے متعلق صلاح و مشورے کے لیے سماجی کارکنوں کے پاس بھی آتے ہیں‘۔

یو این ایڈز یعنی اقوام متحدہ کی ایڈز سے متعلق ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق انڈيا میں تقریباً 5.7 ملین یا ستاون لاکھ لوگ ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ ہے لیکن ایک نئے جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تعداد تین ملین تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

انڈیا کا پہلا کونڈم ڈسکو’پہلا کنڈوم ڈسکو‘
نائٹ کلب میں کنڈوم سے متعلق بیداری مہم
 کنڈوم ’خواتین کنڈوم‘
تمل ناڈو کی خواتین میں کنڈوم کی تقسیم
ڈاکیہڈاک کےساتھ کنڈوم
بہار میں ڈاکخانوں کی صورت تبدیل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد