ایچ آئی وی کے مریضوں کی حالتِ زار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ برس پہلے ڈاکٹروں نے کیلاش بھگت کو بتایا کہ وہ ايچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں۔ کیلاش بھگت بنکاک کے ایک ہوٹل میں باورچی کا کام کرتے تھے۔ کیلاش بھگت بنکاک سے جب بہار میں اپنے گاؤں پہنچے اور اپنے گھروالوں کو اپنی بیماری کے بارے میں بتایا تو ان کے گھروالوں اور دوستوں نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا۔ تیس سالہ کیلاش نے مایوس ہوکر سن دوہزار میں دو بار نیند کی گولیاں کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی ۔ وہ خودکشی کرنے میں ناکام رہے ہیں اور صحیح ہونے کے بعد ایک ایسی تنظیم سے منسلک ہوگۓ جو ایڈز کے مریضوں کے لیے کام کرتی تھی۔ کیلاش کے لیے زندگی بہت زیادہ نہیں بدلی اور کیلاش نے اس برس اپریل میں آخر خودکشی کرلی۔ بہار جیسی غریب اور پسماندہ ریاست میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ افراد کی کہانی کیلاش بھگت سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس برس جون میں روہتاس ضلع کی چالیس سالہ پرامیلا دیوی نے اپنے ایڈز کے مریض خاوند کی موت کے بعد کنویں میں کود کر جان دے دی۔ سماج نے پرامیلا کے خاندان کو اس کے خاوند کی بیماری کی وجہ سے برادری سے بے دخل کردیا تھا۔ گزشتہ برس ایڈز کے مریض پچاس سالہ سریندر سنگھ کی موت کے بعد گاؤں میں جب کسی نے ان کی آخری رسومات ادا نہیں کی تو انکی بیوی نے انہیں اپنے گھر میں خود ہی دفن کیا۔
بہار کے سارن ضلع کے چائما گاؤں میں رامپتی کے خاوند کی ایڈز کے سبب موت ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ رامپتی بھی ايچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ رامپتی کو ایڈز ہے گاؤں والوں نے انہیں اس ڈر سے الگ تھلگ کردیا تھا کہ اس کی سانس سے دوسرے لوگوں کو بھی یہ بیماری ہوجائے گی۔ سماج سے بےدخل کیے جانے کے بعد رامپتی ایک کمرے میں بند رہتی تھی اور آخر کار دو برس پہلے اس کی موت ہوگئی۔ بہار کے گیا ضلع کے جگنناتھ پورا گاؤں میں بشیشور پاسوان کا خاندان ایسے ہی حالات سے دو چار ہے۔ بیشیشور کے دو بیٹے مہندرا اور راماشیش اور بڑے بیٹے کی بہو کی ایڈز کے سبب موت ہوگئی۔ بشیشور کے دونوں بیٹے ٹرک ڈرائیور تھے۔ بشیشور کا کہنا ہے کہ ان کی چھوٹی بہو دوبارہ شادی کرنے کے لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی ہے۔ بشیشور کا تیسرا بیٹا ربندر ہریانہ میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ايچ آئي وی وائرس سے متاثر ہیں اور اب اپنے گھر پرمحدود ہو گئے ہیں۔ بشیشور کا کہنا ہے ’گاؤں والے ہمارے گھر نہیں آتے ہیں اور نا ہی وہ ہمیں کسی تقریبات میں بلاتے ہیں۔‘ بشیشور کے دو پڑوسی بدھن اور بوٹاولی پاسون کا کہنا ہے گاؤں والے ایڈز کی بمیاری سے ڈرتے ہیں اور جب بھی گاؤں میں کوئی بمیار پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ڈر واپس زندہ ہوجاتا ہے۔ بدھن پاسوان کا کہنا ہے’ایڈز ایک خطرناک بیماری ہے اور اس سے لوگ مر جاتے ہیں۔ اس بیماری سے کوئی بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اس بیماری سے متاثر افراد سے دور رہنا ہی اچھا ہے۔‘ ہندوستان میں نیشنل ایڈز کنٹرول کے ادارے ’ناکو‘ کے مطابق بہار ایڈز کے لحاظ سے سب سے حساس ریاست ہے۔ بہار میں اسٹیٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے مطابق ریاست میں پندرہ سو ایڈز کے مریض ہیں جبکہ دیگر پندرہ سو ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں۔ وائرس سے متاثر ہونے کا پہلا معاملہ 1992 میں سامنے آیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست میں پبلک صحت کا نظام خراب ہونے کی وجہہ سے بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور بمیاری کا پتہ لگانے کے سینٹرز کی کمی کی وجہ سے بیماری کا نہیں پتہ چل پاتا ہے۔ بہار میں ایڈز کے مریضوں کے ساتھ کام کرنے والی ڈاکٹر دیواکر تیجاسوی کا کہنا ہے کہ’ غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق بہار میں ایک لاکھ افراد ایچ وائی سے متاثر ہیں‘۔ بہار میں ایچ وائی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ نقل مکانی کرنے والے مزدور ہیں جو کام کی تلاش میں ریاست سے باہر جاتے ہیں اور جسم فروش خواتین کے ساتھ غیر محفوظ جنسی رشتے بناتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چالیس سے پچاس لاکھ ہے۔ ڈاکٹر تیجاسوی کا کہنا ہے کہ ہر دن ان کے دواخانے میں ایک یا دو ايچ وائی سے متاثر افراد آتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بہار میں ایچ وائی سے متاثرہ افراد کو سماج سے بےدخل اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں میں بمیاری کے بارے میں صحیح جانکاری نہیں ہے اور تعلیم کی بھی کمی ہے۔ نۓ اعداد شمار کے مطابق ہندوستان میں تقریبا 30 لاکھ افراد ايچ وائی اور ایڈز سے متاثر ہیں۔ | اسی بارے میں بہار: ایڈز کے مریضوں کی بدحالی29 March, 2007 | انڈیا بِہار ایڈز:’مریضوں میں باون فیصد اضافہ‘23 May, 2007 | انڈیا بھارت:ایڈز متاثرین کی تعداد پرشبہ09 June, 2007 | انڈیا انڈیا: ایڈز کے مریض کم ہو گئے06 July, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا ایڈز بیٹی ملنے میں رکاوٹ 27 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||